راولپنڈی: فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی میں ’’خواتین اور پانی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں ماہرین نے کہا ہے کہ پانی کے پائیدار نظام اور موسمیاتی بحرانوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے خواتین کی بامعنی شمولیت ناگزیر ہے۔
یہ مذاکرہ ادارہ شہر ساز نے اپنے پروجیکٹ فار اربن کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اینڈ ریزیلینس (PUCCA-R) کے تحت منعقد کیا، جس میں پانی کے ماہرین، ماہرین تعلیم، ماحولیاتی کارکنوں اور کمیونٹی نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہر ساز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر الماس شکور نے کہا کہ راولپنڈی اور نوشہرہ کو پانی کی کمی، سیلاب اور خشک سالی جیسے موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے مقامی اداروں اور کمیونٹیز کی استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مذاکرے کے شرکاء نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پانی کے حوالے سے دستیاب قومی ڈیٹا خواتین، لڑکیوں اور پسماندہ طبقات کو درپیش مسائل کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانی کی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے مقامی سطح پر صنفی بنیادوں پر جامع اعداد و شمار جمع کیے جائیں۔
شرکاء نے تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، زرعی زمینوں کو رہائشی علاقوں میں تبدیل کیے جانے اور زیر زمین پانی کی مسلسل کم ہوتی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، جدید آبی ٹیکنالوجی کے استعمال، نجی شعبے کے تعاون اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مذاکرے میں اس نکتے پر اتفاق کیا گیا کہ گھریلو سطح پر پانی کے استعمال اور انتظام میں خواتین بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، لیکن پانی سے متعلق پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں ان کی نمائندگی نہایت محدود ہے۔ شرکاء کے مطابق مؤثر اور پائیدار آبی نظام کے لیے خواتین کی نمائندگی بڑھانا ضروری ہے۔
شرکاء نے سفارش کی کہ پرائمری سطح پر ماحولیاتی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا جائے اور بچوں میں پانی کے محتاط اور محفوظ استعمال کی عادات کو فروغ دیا جائے۔ اس موقع پر شہر ساز نے پانی کے تحفظ سے متعلق آگاہی مہم کے لیے ’’ڈراپی‘‘ کے نام سے ایک علامتی کردار بھی متعارف کرایا۔
مذاکرے کے اختتام پر حکومت، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مؤثر اشتراک عمل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خواتین اور پسماندہ طبقات کو پانی کے انتظام اور فیصلہ سازی کے عمل کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
