شہداء کی قربانیوں کو سیاسی بیانات سے کم نہیں کیا جا سکتا، عامر صدیقی

newsdesk
4 Min Read
سماجی رہنما محمد عامر صدیقی نے شہداء کی قربانیوں کے احترام کو قومی ذمہ داری قرار دیا۔

راولپنڈی: سماجی رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک عظیم نعمت اور ہمارے اجداد کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے۔ قوم سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہے اور دفاعِ وطن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

محمد عامر صدیقی نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے والے غازی اور شہداء قوم کا فخر ہیں، جبکہ پوری قوم کو اپنی غیور افواج پر ناز ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے فوجی شہداء سے متعلق حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک منجھے ہوئے سیاستدان، پارٹی سربراہ اور متعدد مرتبہ اقتدار کا حصہ رہ چکے ہیں، اس لیے ان کا بیان شہداء کی قربانیوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔

عامر صدیقی نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہادت ایک عظیم مرتبہ ہے جسے محض دنیاوی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے ورثاء اور غازیوں کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی جوانوں کی قربانیوں کو صرف تنخواہوں سے جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ شہداء، غازیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی دل آزاری کا باعث بھی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی شخص محض تنخواہ کے عوض اپنی جان کا نذرانہ پیش کر سکتا ہے؟ یقیناً نہیں، یہ قربانی وطن سے بے انتہا محبت، وفاداری، فرض شناسی اور نظریے کی خاطر دی جاتی ہے۔ عامر صدیقی نے کہا کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانیوں کو صرف ملازمت کا معاوضہ قرار دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، تاہم شہداء کے مقام اور ان کی قربانیوں کا احترام سب پر لازم ہے۔

سماجی رہنما نے کہا کہ پاک فوج قوم کے وقار، سلامتی اور بقا کی علامت ہے، جبکہ شہداء کی قربانیوں کو کسی سیاسی بیان سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ وطن کے محافظوں اور ان کے اہلِ خانہ کا احترام قومی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق شہداء کی قربانیوں ہی کی بدولت پاکستان قائم اور محفوظ ہے، اس لیے قومی مفادات سے متعلق امور میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے اور شہداء کے خاندانوں کے جذبات کا احترام نہایت ضروری ہے۔

محمد عامر صدیقی نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بیان کی وضاحت کریں، اسے واپس لیں اور شہداء کے اہلِ خانہ سمیت پوری قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ شہادت تنخواہ نہیں بلکہ حب الوطنی، ایمان اور جذبۂ قربانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

عامر صدیقی کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اور شہداء کی قربانیوں پر تنقید قومی وحدت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو ہر سیاسی مفاد پر مقدم رکھنا چاہیے، کیونکہ شہداء کے احترام پر پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے پاکستان، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

Share This Article