لاہور، جولائی : پاکستان ہاکی فیڈریشن نے آئندہ ہاکی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان سینئر مینز نیشنل ہاکی ٹیم کے لیے لاہور میں سخت تربیتی کیمپ باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔
قومی کوچنگ اسٹاف کی براہ راست نگرانی میں جاری یہ کیمپ ایک جامع تیاری پروگرام کا حصہ ہے، جس میں کھیلوں کی جدید سائنس، تکنیکی بہتری اور حکمت عملی کی منصوبہ بندی کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
کوچز روزانہ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے ساتھ انفرادی مہارت، حکمت عملی کی سمجھ بوجھ اور ٹیم کے باہمی تال میل پر کام کر رہے ہیں۔ تربیتی سیشنز اس انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں کہ کھلاڑی دباؤ کی صورت حال میں بہتر فیصلے کر سکیں اور میچ فٹنس میں نمایاں بہتری آئے۔
کھلاڑیوں کے فٹنس پروگرام کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ روزانہ فٹنس جائزوں کے ذریعے کھلاڑیوں کی پیش رفت کو پرکھا جا رہا ہے تاکہ انہیں بہترین جسمانی حالت میں رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی غذائیت کے ماہرین نے ٹیم کے غذائی منصوبوں کا جائزہ لے کر انہیں بہتر بنایا ہے، تاکہ کھلاڑیوں کی توانائی، بحالی اور کارکردگی مطلوبہ معیار پر رہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پہلی مرتبہ تربیتی سیشنز میں جدید جی پی ایس مانیٹرنگ ڈیوائسز بھی متعارف کرائی ہیں۔ ان نظاموں کے ذریعے کھلاڑیوں کی رفتار، قوت برداشت، کام کے بوجھ اور بحالی کی شرح سے متعلق معلومات فوری طور پر حاصل کی جا رہی ہیں۔
یہ معلومات تفصیلی ویڈیو تجزیے کے ساتھ ملا کر دیکھی جا رہی ہیں، تاکہ کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے اور تربیتی طریقہ کار میں بروقت ضروری تبدیلیاں کی جا سکیں۔
تربیتی پروگرام میں بین الاقوامی کوچز بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مقامی کوچنگ اسٹاف کے ساتھ معاونت کر رہے ہیں۔ اس اشتراک کا مقصد یہ ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کی تیاری عالمی معیار کے مطابق ہو۔
پی ایچ ایف حکام کے مطابق کھلاڑیوں کی بہتری ایک مسلسل عمل ہے اور یہ کیمپ ٹیلنٹ کی نشاندہی، کمزوریوں کی درستگی اور ایسی ٹیم کی تشکیل کے لیے رکھا گیا ہے جو اعلیٰ سطح پر مستقل کارکردگی دکھا سکے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان نے کہا، ہماری تیاریاں ایک واضح روڈ میپ کے تحت جاری ہیں۔ نظم و ضبط، سائنسی تربیتی طریقوں اور محنت کے ذریعے ہمیں یقین ہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی، ان شاء اللہ۔
یہ سخت تربیتی کیمپ پاکستان ہاکی کی بحالی اور قومی ٹیم کو آئندہ ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی کے لیے تیار کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
