پاکستان اپنا پہلا گولڈ پالیسی فریم ورک تیار کر رہا ہے، معدنی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز نے سونے کی ریفائننگ کی سہولت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار
اسلام آباد: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی پہلی جامع گولڈ پالیسی تیار کر رہی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSME) ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) اور اسلام آباد اسمال اینڈ میڈیم چیمبر آف کامرس کے اشتراک سے کیا گیا۔
تقریب میں وفاقی سیکرٹری صنعت حمیرا ضیاء مفتی، چیئرپرسن سمیڈا نادیہ جہاںگیر، صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس سردار طاہر محمود، صدر راولپنڈی چیمبر عثمان شوکت، صدر ویمن چیمبر ثمینہ فاضل اور صدر اسمال چیمبر اویس سٹی سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔
سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہاںگیر سیٹھ نے بتایا کہ ادارہ اپنے تین سالہ کاروباری منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالیاتی اداروں کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد بنانے، برآمدات کے فروغ، بین الاقوامی سرٹیفکیشن، ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحول دوست کاروباری ترقی پر کام کر رہا ہے۔
اپنے خطاب میں ہارون اختر خان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ایس ایم ای سیکٹر کی فنانسنگ 584 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 854 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیاد پر 46 فیصد اضافہ ہے۔ ان کے مطابق قرض حاصل کرنے والے ایس ایم ای کاروباروں کی تعداد بھی 53 فیصد اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستانی کاروباروں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادہ کر رہی ہے اور اسی مقصد کے تحت علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں تاکہ ای کامرس اور آن لائن برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے دوران ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر ثمینہ فاضل نے خواتین کاروباری شخصیات کو فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں خواتین کاروباری افراد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ سمیڈا کی تربیتی سرگرمیاں زیادہ تر تیسرے فریق کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں جبکہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDAP) کی توجہ بڑے کاروباری اداروں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے مختص بجٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے رائے دی کہ خواتین کو صرف مالی امداد دینے کے بجائے انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے کاروباری مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔ ان کے خیالات پر تقریب کے شرکاء نے تالیاں بجا کر اظہارِ تائید کیا۔
واضح رہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 716 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ ہارون اختر خان کے مطابق چھوٹے کاروباروں کے فروغ کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر بہروز رِگّی نے کان کنی کے شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کان کنی کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے، معدنی علاقوں تک ریلوے رابطہ قائم کیا جائے اور پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو مزید فعال بنایا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں سونے سمیت قیمتی معدنیات کی ریفائننگ کی مناسب سہولیات موجود نہ ہونے کے باعث خام سونا بیرون ملک، خصوصاً چین، بھیجا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں جدید ریفائنریاں قائم کرنے سے اس شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے نمائندے عبدالقیوم نے کہا کہ صوبے کے معدنی شعبے کو امن، سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کی بندش، افغانستان کی سرحدی صورتحال اور 2019 کے بعد ماربل کی برآمدات میں کمی سے اس شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ہارون اختر خان نے شرکاء کی تجاویز سننے کے بعد متعلقہ نمائندوں کو تفصیلی مشاورت کے لیے اپنے دفتر میں ملاقات کی دعوت دی۔
تقریب میں بعض مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، اس لیے معدنیات کی مقامی سطح پر پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور جدید ریفائننگ کی سہولیات کے قیام سے قومی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
