صبین غوری کا کراچی کے لیے بڑا ترقیاتی حصہ، تعلیم کے بجٹ میں اضافے اور بااختیار بلدیاتی نظام کا مطالبہ

newsdesk
12 Min Read
سبھین غورے نے بجٹ بحث میں کراچی اور حیدرآباد کے لیے کم از کم ۱۰ فیصد حصہ، تعلیمی بجٹ میں اضافہ اور مقامی اختیارات کی فوری منتقلی کا مطالبہ کیا۔

صبین غوری کا کراچی کے لیے بڑا ترقیاتی حصہ، تعلیم کے بجٹ میں اضافے اور بااختیار بلدیاتی نظام کا مطالبہ

اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی صبین غوری نے وفاقی بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد کے لیے ترقیاتی فنڈز میں منصفانہ حصہ، تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری، تنخواہ دار طبقے کو بہتر ریلیف، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہنرمندی پر مبنی اصلاحات اور آئین کے آرٹیکل 140-A پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صبین غوری نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر وفاقی ترقیاتی فنڈز میں اسے اس کے کردار کے مطابق حصہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جبکہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے مختص کیے گئے ہیں، لیکن کراچی کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) اور محصولات میں تقریباً 67 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر ترقیاتی فنڈز میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ان کے مطابق شہر کو بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، صحت، تعلیم اور عوامی سہولیات کے حوالے سے سنگین مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

صبین غوری نے کہا کہ کراچی نے پاکستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آزادی کے بعد یہ ملک کا دارالحکومت بھی رہا۔ آج بھی یہ تعلیم، مواصلات، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے، مگر اس کی موجودہ صورتحال اس کی قومی اہمیت کے مطابق نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کراچی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ اس سے حاصل ہونے والی تمام آمدن اسے واپس دی جائے، نہ ہی 50 فیصد ترقیاتی بجٹ مانگا جا رہا ہے، تاہم کم از کم 10 فیصد حصہ تو کراچی کا حق بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد بھی اسی نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے اور اسے بھی ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز میں مناسب توجہ ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق کراچی اور حیدرآباد دونوں کو بہتر منصوبہ بندی، اضافی وسائل اور مؤثر طرز حکمرانی کی ضرورت ہے۔

آبادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صبین غوری نے کہا کہ مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی تقریباً 2 کروڑ 35 لاکھ ہے، تاہم حقیقت میں یہ تعداد 4 کروڑ کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی والے شہر کو سنجیدہ سرمایہ کاری اور مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی بدانتظامی اور سیاسی عزم کی کمی کا شکار ہے، اور اگر اس کے مسائل بروقت حل نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

صبین غوری نے کہا کہ کراچی میں روزمرہ زندگی عام شہری کے لیے مشکل بنتی جا رہی ہے۔ جو سفر 10 یا 20 منٹ میں طے ہونا چاہیے، وہ ٹریفک، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی روڈ کی خستہ حالی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ عوام کو اس کی مرمت کے وعدے کیے گئے تھے، مگر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے پاس منصوبہ ہونے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔

تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے تقریباً 46 ارب روپے اور اسکول منصوبوں کے لیے تقریباً 36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مجموعی بجٹ کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ رقم ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہے اور چین، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک نے تعلیم کو ترجیح دے کر ترقی حاصل کی۔ ان کے مطابق پاکستان میں تعلیم کو اب بھی وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی ضرورت ہے۔

صبین غوری نے مطالبہ کیا کہ تعلیم پر خرچ کو موجودہ تقریباً ایک فیصد سے بڑھا کر کم از کم چار فیصد کیا جائے۔ انہوں نے جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں جبکہ پاکستان اس میدان میں پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اگرچہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے، لیکن وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے، خصوصاً اسلام آباد میں جہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی کم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف 36 ارب روپے مختص کرنا کافی نہیں۔ اگر ان بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس نہ لایا گیا تو ملک کو مستقبل میں بے روزگاری، ناخواندگی، غربت اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیم سے محروم بچے چائلڈ لیبر یا دیگر منفی سرگرمیوں کی طرف جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تعلیم ہوگی، نہ ہنر اور نہ ہی روزگار کے مواقع۔ اس لیے حکومت کو فوری طور پر تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے حوالے سے صبین غوری نے کہا کہ یہ ایک مثبت پروگرام ہے اور اس کے بجٹ میں اضافہ بھی خوش آئند ہے، تاہم اس کے ساتھ خواتین کی ہنرمندی پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پروگرام سے مستفید ہونے والی خواتین کو دستکاری، آن لائن کام، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چھوٹے کاروبار کے حوالے سے تربیت دی جائے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کرنے اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف مالی امداد دینے کے بجائے خواتین کو ہنر مند اور خود کفیل بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے صبین غوری نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہوں میں کیا گیا اضافہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس کا خاتمہ مثبت اقدام ہے، مگر سات فیصد تنخواہ اضافہ موجودہ معاشی حالات میں کافی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت پہلے 37 ہزار روپے مقرر تھی اور چند ہزار روپے اضافے سے مزدور طبقے کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ایک کم آمدنی والا شخص بجلی کے بل، کرایہ، بچوں کی تعلیم، خوراک اور دیگر اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور اگرچہ اس کے اسباب عالمی اور علاقائی بھی ہیں، پھر بھی تنخواہ دار طبقے کو زیادہ ریلیف ملنا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کیا جائے جبکہ کم از کم اجرت کو 50 سے 60 ہزار روپے تک لے جایا جائے تاکہ مزدور اور کم آمدنی والے خاندان اپنی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکیں۔

صبین غوری نے آئین کے آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک دیرینہ مطالبہ ہے اور یہی مضبوط بلدیاتی نظام کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسے میں کراچی، حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کو محدود اختیارات کے ساتھ مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کو بھی بااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ صحت، تعلیم، مزدوروں کے حقوق اور عوامی خدمات جیسے مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔

ان کے مطابق لاکھوں اور کروڑوں آبادی والے شہروں کو ایک مرکزی یا صوبائی دفتر سے مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ تحصیلوں، اضلاع اور دیہی علاقوں کو بھی وسائل اور اختیارات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ دیے گئے تو چھوٹے شہروں اور دیہات کے عوام صحت، تعلیم، بنیادی سہولیات اور روزگار کے مسائل کا شکار رہیں گے۔ اس لیے اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہے۔

صبین غوری نے کہا کہ بہت سے لوگ اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں لیکن سیاسی اختلافات کی وجہ سے اس کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کریں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے نظام کا مطالعہ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اختیارات کس طرح نچلی سطح تک منتقل کیے جاتے ہیں اور شہروں اور مقامی آبادیوں کو کس طرح مؤثر انداز میں چلایا جاتا ہے۔

اپنی تقریر کے آغاز میں صبین غوری نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکومتی شخصیات کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن کوششوں میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے جسے سراہا جانا چاہیے۔

انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کو حقیقی ترقی کے لیے منصفانہ ترقیاتی فنڈز، تعلیم میں سرمایہ کاری، مزدوروں کے لیے ریلیف، خواتین کو بااختیار بنانے، مضبوط بلدیاتی نظام اور کراچی سمیت بڑے شہروں کے مسائل پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے