ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دے دیا، کسانوں، نوجوانوں، صحت، تعلیم اور غریب خاندانوں کے لیے فوری ریلیف کا مطالبہ
اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور معاشی مشکلات کے شکار عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کسانوں، نوجوانوں، صحت، تعلیم اور کم آمدن والے طبقات کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے پانی کے حقوق، تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے رجحان، صحت کے کم بجٹ، اضافی ٹیکسوں اور پنوعاقل میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بھی اٹھائے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے کہا کہ عوام کو ایسے بجٹ کی توقع تھی جو ان کی مشکلات کم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے، تاہم بجٹ میں ان شعبوں کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے نوجوان ہیں، لیکن روزگار، ہنر مندی، کاروباری معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری ناکافی نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کو مواقع فراہم نہ کیے گئے تو وہ قومی ترقی میں اپنا مکمل کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔
زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو یوریا، ڈی اے پی کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی پر سبسڈی دی جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے سندھ اور بلوچستان کے پانی کے حقوق کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ 1991 کے آبی معاہدے کے تحت دونوں صوبوں کو ان کا آئینی اور قانونی حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت پانی نہ ملنے کے باعث سندھ میں چاول کی کاشت متاثر ہوئی جس سے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے پاکستان اکنامک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گندم، چاول اور دالوں کی پیداوار اور استعمال میں کمی آئی ہے، لیکن حکومت کسانوں کو ریلیف دینے کے بجائے انہی اشیاء کی درآمد پر انحصار کر رہی ہے۔
تعلیم کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کی علامت ہے۔ انہوں نے یونیسکو، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمنٹ اور الف اعلان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں بڑی تعداد بچیوں کی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے طویل المدتی پالیسی بنائی جائے، تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں تعلیم کو ترجیح نہیں دی گئی۔
ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی توجہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی کے بڑھتے رجحان کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل اس زہر کی عادی بنتی جا رہی ہے اور اس کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی کی ضرورت ہے۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک عوام کی صحت کو ترجیح نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق صحت کا بجٹ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا کم از کم 5 فیصد ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح تقریباً ایک فیصد ہے جو تشویشناک ہے۔
انہوں نے طبی جریدے دی لینسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں زچہ و بچہ کی شرح اموات اب بھی بلند ہے کیونکہ بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایچ آئی وی/ایڈز، پولیو، ہیپاٹائٹس سی اور ذیابیطس جیسے قومی صحت پروگراموں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے اسلام آباد میں جی-11 کے مقام پر مجوزہ پولی کلینک ایکسٹینشن ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ یہ منصوبہ کئی سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے سندھ حکومت اور صوبائی وزیر صحت کی جانب سے صحت کے شعبے میں کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بنیادی مراکز صحت، دیہی صحت مراکز، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT)، گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (NICVD) جیسے منصوبے قابلِ ذکر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں دل کے امراض کے علاج کے لیے متعدد اسپتال اور مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ تقریباً 30 چیسٹ پین یونٹس مختلف شہروں اور علاقوں میں فعال ہیں، جو عوام کو بروقت طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
او زی ٹی فنڈز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر صرف 48 ارب روپے ہی نہیں بلکہ سندھ حکومت کی جانب سے تقریباً 200 ارب روپے بھی مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ کیے جاتے ہیں۔
کراچی کے کے-فور منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے تو اس منصوبے کے ذریعے روزانہ 260 ملین گیلن پانی کراچی کو فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق موجودہ نظام تک پانی پہنچا دے تو سندھ حکومت شہر کو پانی کی فراہمی کو ترجیح دے گی۔
ٹیکسوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی سمیت مختلف ٹیکسوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بچوں کو ملنے والی انعامی رقم پر 40 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو شرمناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹیکس لگانا چاہتی ہے تو نکوٹین اور تمباکو مصنوعات، میٹھے مشروبات، انرجی ڈرنکس اور پراسیسڈ فوڈز پر زیادہ ٹیکس عائد کرے کیونکہ یہ نوجوانوں کی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔
اپنے حلقے پنوعاقل کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں سردیوں اور گرمیوں دونوں موسموں میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی کے دوران، جب درجہ حرارت 49 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، علاقے میں کئی دن تک بجلی بند رہی۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو طلب کرکے اس مسئلے پر خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عوامی مسائل سے آنکھیں بند کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
تقریر کے آغاز میں ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے پاکستان کے عوام، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت پالیسیوں اور فیصلوں نے نہ صرف دنیا کو ایک اور جنگ سے بچایا بلکہ پاکستان کا وقار بھی بلند کیا۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کو بھی مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی کوششوں سے گلگت بلتستان میں جمہوریت اور پیپلز پارٹی کی کامیابی ممکن ہوئی۔
انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں اضافے کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس پروگرام کے لیے مختص رقم 838 ارب روپے سے بڑھا کر 857 ارب روپے کر دی ہے، جو معاشی طور پر کمزور خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے کہا کہ ہر فیصلہ پاکستان کی بہتری اور عوام کی فلاح کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان مضبوط، مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر ترقی کرتا رہے گا۔
