آئی ایس ایس آئی میں پاکستان کی پہلی "اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026” کی رونمائی

newsdesk
6 Min Read
اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی قومی رپورٹِ آزادی ۲۰۲۶ متعارف، سیاسی، شہری، اقتصادی، ڈیجیٹل اور سماجی آزادیوں کا مفصل جائزہ پیش کیا گیا۔

آئی ایس ایس آئی میں پاکستان کی پہلی "اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026” کی رونمائی

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے مشال پاکستان کے اشتراک سے "اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ – پاکستان 2026” کی تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا۔ یہ پاکستان کی پہلی جامع قومی رپورٹ ہے جس میں سیاسی، شہری، معاشی، ڈیجیٹل، قانونی اور سماجی آزادیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک تھے، جنہوں نے پاکستان کی پہلی اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ کی اشاعت کا خیرمقدم کرتے ہوئے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، شہری شمولیت، آئینی حکمرانی اور ادارہ جاتی جوابدہی کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ معروضی جائزے اور باخبر عوامی مباحثے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے اور طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد اور جوابدہ ادارے کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا، ’’آزادی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہریوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ادارے جوابدہ ہیں اور پالیسی سازی شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ یہ رپورٹ اسی قومی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئینی ڈھانچہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع ضمانتیں فراہم کرتا ہے اور حکومت انصاف تک رسائی، شفافیت، احتساب اور عوامی شمولیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے مشال پاکستان کی جانب سے پاکستان میں آزادیوں کی صورتحال پر جامع تحقیق کو سراہا۔ انہوں نے رپورٹ کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے، کاروباری سرگرمیوں اور اسٹارٹ اپ کلچر میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آئی ٹی شعبہ قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں معاشی شمولیت، کاروباری سہولت کاری اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں، تاہم معاشی تحفظ، گورننس اور ادارہ جاتی کارکردگی جیسے شعبوں میں مزید توجہ کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔

رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشال پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور تحقیق کے شریک مصنف امیر جہانگیر نے کہا کہ یہ پاکستان کی پہلی مقامی اور شواہد پر مبنی کوشش ہے جس میں ملک کی آئینی، ادارہ جاتی، معاشی اور سماجی حقیقتوں کی روشنی میں آزادی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں آزادی کے چھ بنیادی شعبوں کا تجزیہ کیا گیا ہے جن میں سیاسی آزادی، شہری حقوق، قانون کی حکمرانی اور انصاف تک رسائی، معاشی آزادی، ڈیجیٹل آزادی اور معلومات تک رسائی، نیز سماجی شمولیت، صنفی مساوات اور عوامی اعتماد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانونی تجزیے، ادارہ جاتی اشاریوں، ماہرین سے مشاورت اور ملک بھر میں تقریباً دو ہزار افراد پر مشتمل سروے کی بنیاد پر پاکستان میں آزادی اور گورننس کا پہلا قومی معیار (بینچ مارک) تشکیل دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے اہم نتائج بیان کرتے ہوئے امیر جہانگیر نے کہا کہ:

  • 77 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ شہری اپنی پسند کا پیشہ اختیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
  • 75 فیصد افراد کے مطابق کاروباری ادارے غیر ضروری سرکاری مداخلت کے بغیر کام کر رہے ہیں۔
  • 75 فیصد شرکاء نے خواتین کے مواقع اور بااختیار بنانے کے حوالے سے مثبت رائے کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، آئی ٹی شعبہ وسعت اختیار کر رہا ہے اور معلومات کی ترسیل اور شہری شرکت کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پارلیمنٹرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس (PCHR) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری نے کہا کہ عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی انصاف، بنیادی حقوق کے تحفظ اور مؤثر طرزِ حکمرانی انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے شفافیت، انصاف اور مساوی مواقع کو ایک آزاد اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔

آئزن ہاور فیلو اور آزاد جموں و کشمیر کی سابق وزیر برائے خواتین ترقی و سماجی بہبود فرزانہ یعقوب نے خواتین کو بااختیار بنانے، سماجی شمولیت اور مساوی مواقع کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور پسماندہ طبقات کی معاشی، سماجی اور سیاسی شعبوں میں مؤثر شمولیت پائیدار قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اس سے قبل اپنے افتتاحی کلمات میں چین پاکستان اسٹڈی سینٹر (CPSC) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے مشال پاکستان کی اس تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں آزادی کا تصور صرف آئینی ضمانتوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں معاشی مواقع، ڈیجیٹل رسائی، سماجی شمولیت، ادارہ جاتی انصاف، سلامتی اور عوامی اعتماد بھی شامل ہیں۔

تقریب میں ارکانِ پارلیمنٹ، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، میڈیا نمائندگان، سول سوسائٹی کے ارکان، محققین اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی اور پاکستان میں آزادی، گورننس اور عوامی اعتماد کے بدلتے ہوئے رجحانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے