احمد بائیگ نے مازگان بیچ اینڈ گالف ریزورٹ میں کھیلے گئے اے ایم گرین آئی جی پی ایل مراکش رائزنگ اسٹارز کے اختتامی راونڈ میں دو شاٹس کم رقم کر کے ۶۸ کا نتیجہ حاصل کیا اور مشترکہ ساتویں مقام پر اپنا نام درج کرایا۔ احمد بائیگ کی یہ کارکردگی آنے والے بڑے ایونٹ کے لیے خاصی امید افزا ثابت ہوئی۔ابتدائی دن احمد بائیگ نے ایک شاٹ اوپر یعنی ۷۳ سے آغاز کیا لیکن دوسرے دن زبردست واپسی کرتے ہوئے چھ شاٹس کم یعنی ۶۶ کا اسکور بنایا۔ تیسرے دن انہوں نے محتاط انداز میں ۷۰ کھیل کر اپنی رفتار برقرار رکھی اور اختتامی راونڈ میں دوبارہ جارحانہ کھیل دکھاتے ہوئے ۶۸ پر مقابلہ ختم کیا۔ اس محنتی سفر نے ثابت کیا کہ احمد بائیگ دباؤ میں بھی قابو برقرار رکھ سکتے ہیں۔اختتامی دن احمد بائیگ نے زور دار حملے کے دوران چھ برڈیز اور محض دو بوگیز کیے، جس سے ان کا اسکور بہتر ہوا اور ان کی آئرن پلے کی مضبوطی خصوصاً نمایاں رہی۔ مجموعی انداز میں احمد بائیگ نے ثابت قدمی اور تیز اسکورنگ صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس نے انہیں بڑے ایونٹس کے لیے بہتر تیاری فراہم کی۔پاکستان کے دیگر کھلاڑی آدَم سید نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور ۷۱، ۶۹، ۷۰ اور ۷۰ کے اسکور سے بیسویں مقام حاصل کیا، جس سے ظاہر ہوا کہ پاکستانی گالفرز بین الاقوامی میداں میں تیزی سے قدم جما رہے ہیں۔تھائی لینڈ کے تاناپت پیچائکول نے ٹورنامنٹ کا ٹائیٹل جیتا اور مجموعی طور پر ۱۷ شاٹس کم کر کے چیمپئن بنے، مگر یہ ہفتہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ایک کارگر پریکٹس بن کر سامنے آیا کیونکہ اسی کورس پر جلد ایشین ٹور کا بڑا مقابلہ بھارت کلاسک منعقد ہوگا۔ بھارت کلاسک ۴ تا ۷ جون کو مازگان بیچ اینڈ گالف ریزورٹ میں کھیلا جائے گا اور اس کا انعامی مجموعہ آدھا ملین ڈالر ہے، جس سے فیلڈ انتہائی مضبوط متوقع ہے۔احمد بائیگ کے نزدیک واضح راہ یہ ہے کہ وہ اپنے شارٹ گیم میں بہتری لا کر چند قابلِ تلافی بوگیز بچائیں تو ان کی جارحانہ اسکورنگ پاور انہیں بھارت کلاسک جیسے بڑے ایونٹس میں فاتح بنا سکتی ہے۔ ان کی حالیہ فارم اور اعتماد اس کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ وہ نمایاں مقابلہ دینے کے اہل ہیں۔احمد بائیگ کی پیشہ ورانہ ترقی میں برگیڈیئر (ریٹائرڈ) ریاض باجوا کے رہنمائی کردار کا ذکر ضروری ہے۔ باجوا نے ابتدائی دنوں میں انہیں نظم و ضبط اور رہنمائی فراہم کی، جبکہ مقامی مدد میں لاہور گارڈن گرینز گالف کلب نے رواں مشق کے اوقات میں آسانیاں فراہم کر کے ان کی تیاری میں سہارا دیا۔ یہ تعاون اس کھلاڑی کی خود ساختہ محنت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے ایک امید افزا داستان بن گیا ہے۔
