عالمی ادارۂ صحت نے تازہ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جبکہ اس وبا کا موجودہ دائرہ صرف افریقہ کے دو ممالک کانگو اور یوگنڈا تک محدود ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ اس وقت افریقہ کے باہر کسی اور ملک میں ایبولا کے مریض کی تصدیق نہیں ہوئی، اسی بنیاد پر بین الاقوامی سطح پر سفری پابندیوں کی سفارش بھی نہیں کی گئی۔وزارتِ صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ متاثرہ افریقی ممالک سے پاکستان کے ساتھ محدود سفری روابط کی بدولت ملک میں خطرہ انتہائی کم ہے اور پاکستان یا ہمسائیہ ممالک میں ماضی میں بھی کبھی ایبولا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ اسی رپورٹ کی روشنی میں وزارتِ صحت نے احتیاطی نگرانی بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں اور تمام متعلقہ ادارے صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاقی وزارتِ صحت اور قومی ادارۂ صحت نے ایبولا سے بچاؤ کے سلسلے میں ملک بھر کے ائیرپورٹس پر نگرانی مزید مؤثر بنانے، بین الاقوامی صحت ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے اور بارڈر ہیلتھ سروسز کو الرٹ رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ قومی ادارۂ صحت پاکستان ایبولا کی تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے اور تمام ضروری انتظامات کو فوری ہدایات کے تحت یقینی بنایا جا رہا ہے۔وزارتِ صحت نے باور کرایا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اس کے ماتحت ادارے اور متعلقہ صوبائی محکمے ہائی الرٹ ہیں اور عوام کو وباؤں سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات کے تحت احتیاطی نگرانی بڑھائی جا رہی ہے مگر عام مسافروں کے لیے سفری پابندیاں فی الحال تجویز نہیں کی گئیں۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افریقہ کے متاثرہ ممالک کا سفر کرنے والے شہری روانگی سے قبل متعلقہ ملک کی سفری و طبی ہدایات ضرور دیکھیں اور تحفظاتی تدابیر اختیار کریں۔ وزارتِ صحت اور قومی ادارۂ صحت عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی کی صورت میں فوری طور پر موثر جواب دیا جا سکے۔جنیوا میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور پولیو اوور سائیٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر کرس ایلس کی ملاقات کے دوران پاکستان میں پولیو کے خاتمے اور صحت کے شعبے میں جاری تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ ملاقات میں پاکستان میں صحت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت اور وزیرِ صحت کی قیادت میں مربوط حکمتِ عملی کو سراہا گیا۔ڈاکٹر کرس ایلس اور گیٹس فاؤنڈیشن نے یقین دلایا کہ ویکسینز کی دستیابی اور پولیو کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔ وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری نیشنل کاز ہے اور مربوط حکمتِ عملی، ویکسینیشن اور کوالٹی مہمات کے ذریعے پاکستان کو جلد پولیو فری بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم کی قیادت اور وژن کے تحت صحت کے شعبے میں اصلاحات جاری ہیں اور گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ملاقات میں طے پایا کہ عالمی شراکت داری کے تحت پاکستان میں ویکسینیشن مہمات اور صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور ڈاکٹر کرس ایلس رواں سال جولائی میں پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ مقامی عملے اور شراکت داروں کے ساتھ مزید تفصیلی حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔
