کیمبرج امتحانات اسکینڈل، 11 پرچوں کے لیک ہونے کا دعویٰ

newsdesk
8 Min Read
سینیٹ کمیٹی میں طالب علم کے دعوے کے مطابق کیمبرج کے او اور اے لیول کے ۱۱ پیپر لیک ہوئے، آن لائن فروخت اور وقت زون خامیوں پر تشویش۔

کیمبرج امتحانات کا معاملہ سنگین، 11 پرچوں کے لیک ہونے اور 300 سے 500 پاؤنڈ میں فروخت کے دعوے

اسلام آباد: پاکستان میں کیمبرج او اور اے لیول امتحانات کا نظام سنگین سوالات کی زد میں آ گیا، جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کو بتایا گیا کہ پرچوں کے لیک ہونے کا معاملہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ تین سال سے جاری ہے۔ ایک طالب علم نے کمیٹی کے سامنے دعویٰ کیا کہ رواں امتحانی سیشن میں 11 پرچے لیک ہوئے، جبکہ ماضی میں بعض پرچے آن لائن گروپس میں 300 سے 500 پاؤنڈ تک فروخت کیے گئے اور امتحان سے قبل مواد Reddit، Google اور WhatsApp گروپس میں گردش کرتا رہا۔

یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اجلاس میں زیر بحث آیا، جہاں طالب علم ملک محمد یاسین اعوان کو کیمبرج پیپر لیک اسکینڈل پر بریفنگ کے لیے بلایا گیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مسئلہ سب سے پہلے میتھمیٹکس P1 پیپر سے سامنے آیا، جو مئی جون سیشن میں تقریباً 45 ہزار سے 50 ہزار طلبہ دیتے ہیں، تاہم بعد میں یہ معاملہ زیادہ سنگین شکل اختیار کر گیا۔

طالب علم کے مطابق 2023 میں کیمبرج کے بعض سوالات لیک ہوئے، جبکہ 2024 میں پورا پیپر امتحان سے پہلے لیک ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ انہوں نے بتایا کہ لیک شدہ مواد Reddit، Google اور WhatsApp گروپس پر پھیل گیا تھا، جبکہ ایک Discord گروپ میں پرچہ باقاعدہ 300 سے 500 پاؤنڈ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ طالب علم نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کی جانب سے رپورٹ کرنے کے باوجود کیمبرج نے مؤثر کارروائی نہیں کی اور صرف لیک شدہ سوالات کے مکمل نمبر دے کر معاملہ نمٹانے کی کوشش کی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال معاملہ مزید پھیل گیا اور ایک یا دو نہیں بلکہ 11 پرچوں کے لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے۔ طالب علم نے کہا کہ کیمبرج پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد پرچے منعقد کراتا ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد سبجیکٹ انٹریز ہوتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ او اور اے لیول کے ایک پیپر کی لاگت 50 ہزار روپے سے زائد ہے اور مئی جون سیشن میں سالانہ 30 سے 50 ارب روپے تک کا مالی حجم شامل ہوتا ہے۔

اجلاس میں ٹائم زون کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ طالب علم نے کہا کہ پاکستان کو Time Zone 3 میں رکھا گیا ہے، جس میں بنگلہ دیش اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق وقت کے فرق کے باعث ایک ملک سے پرچہ لیک ہو کر پاکستان میں امتحان سے پہلے پہنچ سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس پہلو کو امتحانی سیکورٹی کے لیے ایک سنجیدہ خدشہ قرار دیا۔

عملی امتحانات اور نگرانی کے نظام پر بھی سنگین اعتراضات سامنے آئے۔ طالب علم نے دعویٰ کیا کہ کیمبرج کی ہدایات بعض امتحان لینے والوں کو بھیجی جاتی ہیں، جن میں سے کچھ اسی ادارے کے اساتذہ ہوتے ہیں جہاں کے طلبہ امتحان دے رہے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اساتذہ اپنے طلبہ کو فزکس اور کیمسٹری جیسے مضامین کے پریکٹیکل سوالات کے بارے میں پہلے سے رہنمائی دے سکتے ہیں۔

جب کمیٹی نے پوچھا کہ کیا کیمبرج یا برٹش کونسل کے پاس اپنے مستقل انویجیلیٹرز کا پول موجود ہے، تو طالب علم نے بتایا کہ زیادہ تر عملہ اسکولوں سے ہی لیا جاتا ہے۔ اس پر کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے اسے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ قرار دیا۔

اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ حالیہ برسوں میں کیمبرج نے برٹش کونسل کے ساتھ بڑے اسکول چینز کو بھی امپلیمنٹنگ پارٹنرز کے طور پر شامل کیا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اگر اسکول سے منسلک عملہ امتحانی عمل میں شامل ہو اور وہی اسکول بعد میں ٹاپ گریڈز اور ڈسٹنکشنز کی تشہیر کریں تو یہ شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ایک پرچہ ملتوی کیے جانے کے باوجود وہی پرچہ مبینہ طور پر پاکستان سے باہر لیک ہوا، جسے حکام نے کیمبرج کی ذمہ داری قرار دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کیمبرج نے اپنی غلطی تسلیم کی اور پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔

وزارت کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھیجا گیا ہے کیونکہ کئی پرچے آن لائن یا انٹرنیٹ سے منسلک نظام کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ لیکج کہاں سے شروع ہوئی اور کیا سائبر نظام میں کوئی کمزوری موجود تھی۔

سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر اس طرح کے واقعات بار بار ہوتے رہے تو مستقبل میں پاکستانی طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا ان کے امتحانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمولی امتحانات نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے متعلقہ اداروں سے سنجیدہ جواب طلبی ضروری ہے۔

کمیٹی نے عندیہ دیا کہ کیمبرج، آئی بی سی سی اور دیگر متعلقہ حکام کو تفصیلی بریفنگ کے لیے طلب کیا جائے گا۔ ارکان نے زور دیا کہ پاکستان کو یہ معاملہ فعال انداز میں اٹھانا چاہیے تاکہ ذمہ داری مقامی طلبہ پر منتقل نہ کی جا سکے، خاص طور پر جب معاملہ امتحانی انتظامات، ٹائم زون، سائبر ٹرانسمیشن اور امپلیمنٹنگ پارٹنرز سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔

یہ معاملہ اب ایک بڑے تعلیمی احتسابی سوال میں تبدیل ہو چکا ہے، کیونکہ ہزاروں خاندان کیمبرج امتحانات پر بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں اور طلبہ یونیورسٹی داخلوں کے لیے شفاف نتائج پر انحصار کرتے ہیں۔ پیپر لیک، آن لائن فروخت، کمزور کارروائی، مفادات کے ٹکراؤ اور ممکنہ سائبر ناکامی کے الزامات نے کیمبرج امتحانات کی شفافیت اور ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Copied From: Cambridge exams under fire as student claims 11 papers leaked and papers sold for £300 to £500 online

https://epaper.minutemirror.com.pk/story/title/1779137523-Page-1-Lahore-(19-05-26)_12.jpg?new=1
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے