اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی

newsdesk
3 Min Read
اسلام آباد کے تعلیمی حکام نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن، فیس اور اسکول بیگز پر نئے ضوابط نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

اسلام آباد کی تعلیمی ریگولیٹری اتھارٹی نے غیر قانونی طور پر چلنے والے اسکولوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ طالب علموں کے مستقبل اور صحت پر کسی بھی صورت سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور قانون کے نفاذ میں کوئی نرمی برتی نہیں جائے گی۔

غیر رجسٹرڈ نجی اسکول جو بغیر اجازت چل رہے ہیں، ان کے خلاف تعلیمی سیشن، فیس وصولی اور حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں ادارہ سیل کرنے، آڈٹ اور جرمانے سمیت دیگر انتظامی اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں تاکہ والدین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ نجی اسکول ایک ماہ سے زیادہ فیس بطور ایڈوانس وصول نہیں کر سکتے اور بارہ ماہ سے زائد مدت کے لئے فیس وصولی مکمل طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔ والدین سے غیر قانونی فیس وصول کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور باقاعدہ شکایات کی بنیاد پر تفتیش اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

طلبہ کی جسمانی صحت کے تحفظ کے لئے "ہلکے اسکول بیگز پالیسی” نافذ کی گئی ہے جس کے تحت اسکول بیگ کا وزن بچے کے جسمانی وزن کا دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد بھاری بستوں سے پیدا ہونے والی کمر درد اور دیگر صحت کے مسائل کو روکنا ہے اور اسکولوں کو غیر ضروری کتابوں اور بوجھ کو فوری طور پر کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

والدین کی شکایات کے ازالے کے لئے خصوصی شکایت سیل قائم کیا جائے گا تاکہ بروقت شکایات وصول کر کے فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ اور والدین کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون پر عمل سب کے لیے لازم ہوگا۔

چیئرمین تعلیمی اتھارٹی نے کہا کہ معیاری تعلیم، شفافیت اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قواعد کی فوری پاسداری شروع کریں۔ آئندہ روزانہ بنیادوں پر جائزے اور ریگولیٹری معائنوں کے ذریعے خلاف ورزیوں کا سراغ لگا کر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس اقدام کا مقصد نہ صرف بچوں کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانا ہے بلکہ ان کی صحت اور فلاح و بہبود کو بھی ترجیح دینا ہے۔ والدین اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی فیس کے بارے میں فوری طور پر شکایت سیل کو مطلع کریں تاکہ بروقت کاروائی ممکن ہو سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے