آئی ایس ایس آئی میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب “دی تھرڈ ڈائمینشن پالیسی پرزم” کی تقریبِ رونمائی

newsdesk
5 Min Read
اسلام آباد میں سفیر جی۔آر۔ بلوچ کی کتاب تیسری جہت پالیسی کی رونمائی، ماہرین نے اس کے اخلاقی، تکنیکی اور جغرافیائی نکات کو سراہا۔

اسلام آباد: انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں سفیر جی آر بلوچ کی تصنیف “دی تھرڈ ڈائمینشن پالیسی پرزم” کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب میں سابق دفاعی سیکریٹری جنرل خالد نعیم لودھی، سابق سفارتکار سفیر مسعود خالد، قائداعظم یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منور حسین، ڈاکٹر شازیہ خالد چیما اور کالم نگار و اینکر فاروق پٹافی نے بطور مبصر شرکت کی، جبکہ سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، اسکالرز اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

تقریب کے آغاز میں آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹوز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلم نگار نے سفیر جی آر بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی اہم تصنیف کی رونمائی کے لیے آئی ایس ایس آئی کا انتخاب کیا، جو ادارے پر اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے پالیسی اور اسٹریٹجک امور پر سفیر بلوچ کی علمی خدمات کو بھی سراہا۔

آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کتاب کو عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک بروقت اور اہم علمی کاوش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول جغرافیائی سیاسی مقابلہ آرائی، ٹیکنالوجی میں تبدیلی، معاشی صف بندی اور بدلتے سکیورٹی تصورات سے متاثر ہو رہا ہے، ایسے میں سفارتی تجربے پر مبنی سنجیدہ تحقیق کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

سفیر جی آر بلوچ نے اپنی کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا “بیانیوں کی جنگ” کا مشاہدہ کر رہی ہے جہاں اثر و رسوخ خیالات، مکالمے اور نقطہ نظر پیش کرنے کی صلاحیت سے طے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کتاب کو “روایتی متن سے زیادہ ایک مکالمہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیالات خاموشی سے صفحات سے ذہنوں تک پہنچتے ہیں اور بالآخر پالیسیوں اور عالمی مباحث کو متاثر کرتے ہیں۔

جنرل خالد نعیم لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتاب بین الاقوامی تعلقات میں “تیسرے زاویے” کے تصور کو اجاگر کرتی ہے، جہاں قومی مفادات کے ساتھ اخلاقیات اور انسانیت کو بھی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، مسلم امہ کے اختلافات، غزہ بحران اور جدید ٹیکنالوجی کے سفارتکاری پر اثرات سمیت مختلف موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

سفیر مسعود خالد نے کتاب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق اہم موضوعات پر مشتمل ایک مفید اور جامع مجموعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں آپریشن سندور کے دوران بھارت کے رویے، غزہ تنازع اور بدلتی عالمی صورتحال کے پاکستان پر اثرات کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر منور حسین نے کہا کہ مصنف نے عالمی سیاست کو صرف طاقت اور معاشی مقابلے کے تناظر میں نہیں بلکہ اخلاقی اور نظریاتی پہلوؤں سے بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقدار کو عالمی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور نظریات آج بھی بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کا اہم ذریعہ ہیں۔

ڈاکٹر شازیہ خالد چیما نے کہا کہ کتاب روایتی جغرافیائی سیاسی تجزیے سے آگے بڑھ کر سیاسی، ثقافتی، نفسیاتی اور اخلاقی عوامل کا جائزہ لیتی ہے، جو معاشروں کی شناخت اور سوچ کو تشکیل دیتے ہیں۔

فاروق پٹافی نے کہا کہ کتاب سفارتکاروں اور ماہرین تعلیم دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس میں پالیسی، نظریات اور عالمی سیاست کو متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کتاب کے تعلیمی نظام، مصنوعی ذہانت اور جدید سیکھنے کے ماحول سے متعلق مباحث کو بھی اہم قرار دیا۔

تقریب کے اختتام پر کتاب کی باقاعدہ رونمائی کی گئی جبکہ مقررین میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے