محنت کشوں کی عزت اور مہارت کی تعلیم

newsdesk
4 Min Read
یکم مئی پر محنت کشوں کی خدمات، معاشی مشکلات میں ہنر کی اہمیت اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد کا کردار واضح طور پر بیان کیا گیا

یومِ مزدور، مہارتوں کی ترقی اور خود انحصاری کی ضرورت: نیشنل اسکلز یونیورسٹی کا اہم کردار

Dr Nadeem Iqbal
Dr Nadeem Iqbal

پروفیسر ندیم اقبال

پاکستان میں ہر سال یکم مئی کو منایا جانے والا یومِ مزدور محنت کش طبقے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ عالمی سطح پر یہ دن 1886 کے شکاگو کے مزدور تحریک سے جڑا ہوا ہے، جبکہ پاکستان میں اسے 1972 میں باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں، جن کا مقصد بہتر اجرت، محفوظ کام کے ماحول اور سماجی تحفظ جیسے بنیادی حقوق کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ قومی ترقی اور سماجی انصاف کی بنیاد محنت کش طبقہ ہی ہے۔

موجودہ عالمی حالات میں یومِ مزدور کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ پاکستان کی ایک بڑی افرادی قوت خصوصاً غیر رسمی شعبے میں کم اجرت، روزگار کے عدم تحفظ اور مہارتوں کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مزدوروں کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم، تربیت اور مؤثر پالیسیوں پر توجہ دیں۔ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہ صرف اخلاقی ذمہ داری بلکہ معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

اسی تناظر میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی سرکاری یونیورسٹی ہے جو مکمل طور پر مہارتوں کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم پر مرکوز ہے۔ یہاں ایسے عملی اور صنعت سے ہم آہنگ پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں جو نوجوانوں کو براہِ راست روزگار کے قابل بناتے ہیں اور تعلیم و مارکیٹ کے درمیان خلا کو کم کرتے ہیں۔

خصوصاً یونیورسٹی کا شعبہ مینجمنٹ سائنسز نمایاں اہمیت کا حامل ہے، جہاں بی بی اے، بزنس اینالیٹکس، فن ٹیک و ای کامرس اور ہاسپیٹیلٹی اینڈ ٹورازم جیسے پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ پروگرامز طلبہ کو جدید کاروباری اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہیں، جس سے وہ نہ صرف اداروں کو مؤثر انداز میں چلا سکتے ہیں بلکہ نئی کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب فروری 2026 میں شروع ہونے والی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے پاکستان کی درآمدی لاگت بڑھی، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور توانائی بحران نے شدت اختیار کی۔ اس کا براہِ راست اثر مزدور طبقے پر پڑا، جن کی زندگی پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک ہنر مند اور مضبوط افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکے۔ نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد جیسے ادارے اس حوالے سے نہایت اہم ہیں، جو بزنس اینالیٹکس، فن ٹیک، سپلائی چین اور دیگر شعبوں میں ماہر افراد تیار کر کے معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

یومِ مزدور محض ایک یادگار دن نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ محنت کشوں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ موجودہ عالمی چیلنجز کے پیش نظر مہارتوں کی ترقی، معیاری تعلیم اور خود انحصاری ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے