اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے سینیٹ کی مداخلت کے بعد پی آر ایم پی درخواستوں کی فیسوں کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم متاثرہ گریجویٹس میں سے تقریباً نصف اب بھی ادائیگی کے منتظر ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی آر ایم پی پروگرام کے لیے درخواست دینے والے متعدد گریجویٹس کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد انہیں فیس واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن طویل عرصے تک یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔ معاملہ کئی ماہ تک التوا کا شکار رہا، جسے بعد ازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے سامنے اٹھایا گیا۔
کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے نشاندہی کی کہ سینکڑوں متاثرہ درخواست گزار تاحال اپنی فیسوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ اس پر کمیٹی کی ہدایت کے بعد پی ایم ڈی سی نے فیس ریفنڈ کا عمل شروع کیا اور اب تک تقریباً نصف درخواست گزاروں کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، تاہم باقی کیسز میں تاخیر برقرار ہے، جو آٹھ ماہ سے زائد عرصے پر محیط ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر رفیع شیر نے اس معاملے کو پارلیمانی سطح پر اجاگر کرنے پر سینیٹر ندیم احمد بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے جزوی ادائیگیوں کے آغاز کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ باقی ماندہ درخواست گزاروں کو بھی بلا تاخیر ادائیگیاں کی جائیں تاکہ متاثرہ گریجویٹس کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی وعدوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا بلکہ اداروں پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔
