سرفہرست کھلاڑی زینا زین نے فائنل میں تیسری سیڈ لوسی اسٹفانونی کو مضبوط کارکردگی کے بعد چار گیمز میں ۱۱-۹، ۱۱-۷، ۸-۱۱، ۱۱-۳ کے اسکور سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ مقابلہ مجموعی طور پر ۳۴ منٹ تک جاری رہا اور زینا زین نے میچ میں واضح گرفت اور حکمت عملی دکھائی جس سے کامیابی مل سکی۔اس ایونٹ میں فاتح کو ۱٬۱۴۰ ڈالر کا انعام دیا گیا جب کہ رنر اپ لوسی اسٹفانونی کو ۷۲۰ ڈالر سے نوازا گیا، جو دونوں کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کا اعتراف تھا۔ یہ چیمپئن شپ کے ٹو سکواش کلب کا خواتین کے لیے پہلا بین الاقوامی ٹورنامنٹ تھا اور مجموعی طور پر کلب کا دوسرا بین الاقوامی ایونٹ بھی رہا۔اختتامی تقریب میں بانی ون ورلڈ سکواش کرامت اللہ خان اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر محمد نوید عالم موجود تھے اور انہوں نے فاتح و رنر اپ کو ٹرافیاں اور انعامی چیک تقسیم کیے۔ کرامت اللہ خان نے کہا کہ اُن کا مقصد ریاستہائے متحدہ میں سکواش کو فروغ دینا ہے اور انہوں نے اسپانسرز، یو ایس سکواش، پی ایس اے اور پی ایس اے میڈیا ٹیم کے ساتھ شریک تمام کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کیا، اور آئندہ سال انعامی رقم بڑھانے کا عندیہ بھی دیا۔ٹورنامنٹ ڈائریکٹر محمد نوید عالم نے کہا کہ یہ کلب کی پہلی خواتین بین الاقوامی چیمپئن شپ تھی اور مقابلوں کا معیار انتہائی بلند تھا، انتظامیہ کی محنت واضح رہی اور تمام شرکاء کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ایونٹس ریاستہائے متحدہ میں سکواش کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔زینا زین کی جیت نے اس ایونٹ کا اختتام جوش و خروش سے کر دیا اور مقابلے نے بین الاقوامی سطح پر کھیل کے فروغ اور مستقبل میں بڑے ایونٹس کے انعقاد کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی، جس میں کلب اور منتظمین کی کوششیں نمایاں رہیں۔
