پی ایم ڈی سی کا میڈیکل طالبہ کی المناک موت پر اظہارِ افسوس

newsdesk
4 Min Read
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے طالبہ خودکشی اور ہراسانی کے مقدمات کی تین ابتدائی سماعتیں کر کے تادیبی کارروائی کے فیصلے کے لیے حوالہ کیا۔

میرپورخاص کیس میں قصور وار ثابت ہونے پر فیکلٹی اور اداروں کے خلاف کارروائی ہوگی: پی ایم ڈی سی

پی ایم ڈی سی کا میڈیکل طالبہ کی المناک موت پر اظہارِ افسوس

اسلام آباد، 10 اپریل 2026:پی ایم ڈی سی نے، جو ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کا قومی ریگولیٹری ادارہ ہے، فہمیدہ لغاری، جو کہ محمد میڈیکل کالج میرپورخاص کی تیسری سال کی طالبہ ، کی موت پر گہرے دکھ اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک سرکاری بیان میں صدر پی ایم اینڈ ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ کونسل اس واقعے کے پس منظر میں سامنے آنے والے حالات، خصوصاً ہراسانی کے سنگین الزامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور ایسے افسوسناک حالات میں ایک نوجوان طالبہ کا ضیاع انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے گورنمنٹ آ ف سندھ کی جانب سے شروع کی گئی انکوائری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات ہر پہلو سے مکمل اور شفاف ہونی چاہئیں اور اس کی تفصیلات مزید کارروائی کے لیے پی ایم ڈی سی کو فراہم کی جائیں۔
ہراسانی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا کہ گزشتہ سال ہی تمام میڈیکل و ڈینٹل کالجز کو سختی سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہر ادارے میں فعال اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم کریں تاکہ شکایات کا بروقت ازالہ ہو سکے اور طلبہ و طالبات کی ذہنی صحت اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر طلبہ کو بار بار ہدایات بھی دی جا جاتی رہیں ہیں کہ اگر ان کی شکایات ادارہ جاتی سطح پر حل نہ ہوں تو وہ براہِ راست پی ایم اینڈ ڈی سی ہراسمنٹ کمیٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ ان ہدایات پر عمل درآمد میں کسی قسم کی ناکامی یا محفوظ تعلیمی ماحول کی عدم فراہمی پی ایم اینڈ ڈی سی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیوں کا قیام محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ طلبہ کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور بنیادی حفاظتی اقدام ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی غفلت پر سخت ریگولیٹری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی نے اس معاملے سے متعلق مکمل ریکارڈ اور معلومات طلب کر لی ہیں، جن میں واقعے کے حالات، ادارے اور حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ، اور ادارے کی جانب سے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات شامل ہیں۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد معاملہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کی ڈسپلنری کمیٹی میں سنا جاۓ گا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے مرحومہ کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور ملک بھر کے میڈیکل اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اخلاقی اصولوں اور پی ایم اینڈ ڈی سی کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام میڈیکل و ڈینٹل ادارے طلبہ کے لیے محفوظ، باعزت اور معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ ہراسانی، دھمکی یا کسی بھی قسم کی بدسلوکی اخلاقی اور قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کی سلامتی، عزت اور ذہنی صحت ہماری اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے