قومی قرض میں دو سال میں ۱۵۰۷۲ ارب کا اضافہ

newsdesk
3 Min Read
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ ۲۰۲۴ تا فروری ۲۰۲۶ میں قومی قرض میں ۱۵۰۷۲ ارب روپے کا اضافی بوجھ سامنے آیا۔

۲۰ اپریل ۲۰۲۶، راولپنڈی میں عوامِ پاکستان کے رہنماؤں نے حکومت کی اقتصادی حکمت عملی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دستیاب اعداد و شمار قومی قرض پر غیر معمولی دباؤ ظاہر کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ ۲۰۲۴ سے فروری ۲۰۲۶ تک قومی قرض میں مجموعی طور پر ۱۵۰۷۲ ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جو ملک کی معاشی صلاحیت کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ تجزیہ کے مطابق یہ اضافی بوجھ تقریباً روزانہ ۲۱ ارب روپے کے حساب سے جمع ہوا، جو عوام اور معیشت دونوں پر براہِ راست دباؤ ڈال رہا ہے۔چوہدری انعام ظفر، مرکزی نائب صدر عوامِ پاکستان اور حافظ عثمان عباسی، اضافی جنرل سیکریٹری نے مشترکہ بیان میں اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ شرحِ اضافہ ملکی معیشت میں استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور یہ بات واضح کرتی ہے کہ قرض کے بغیر ملکی ترقی مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ قرض لینے پر انحصار کم کیا جا سکے۔بیان میں کہا گیا کہ اسی دوران داخلی قرض میں ۱۴۰۰۴ ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ بیرونی قرض میں ۱۰۶۸ ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو مالیاتی توازن میں بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ عوامِ پاکستان نے اس تقسیم کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ داخلی قرض میں اضافے سے مقامی معیشت پر اثرات شدت اختیار کریں گے جبکہ بیرونی قرض کی بڑھوتری بیرونی استحکام کے لیے خطرہ پیدا کرے گی۔رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ فروری ۲۰۲۴ کے اختتام تک کل قرض کا حجم ۶۴۸۱۰ ارب روپے تھا اور دو سال کے مختصر عرصے میں اس میں اتنی بڑی بڑوتری ظاہر کرتی ہے کہ پالیسی سطح پر واضح تبدیلیاں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والی نسلیں اس مالی بوجھ کو برداشت کریں گی۔عوامِ پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عملی، شفاف اور ٹارگٹڈ اقدامات اپنائے تاکہ قرض لینے کی شرح میں کمی لائی جا سکے اور معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی قرض میں تیزی سے اضافے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وقت ضائع کیے بغیر معیشت دوست پالیسیاں ترتیب دی جانی چاہئیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے