ایچ ای سی نے جامعات کے لیے ’مینٹورنگ پروگرام فار یونیورسٹیز‘ شروع کردیا

newsdesk
4 Min Read
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے نیشنل اکیڈمی برائے اعلیٰ تعلیم کے تحت پورے ملک کے لیے جامع مینٹورنگ پروگرام کا آغاز کر دیا۔

ایچ ای سی نے جامعات کے لیے ’مینٹورنگ پروگرام فار یونیورسٹیز‘ شروع کردیا

اسلام آباد، 17 مارچ، 2026: ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے ذریعے ملک بھر کےاعلیٰ تعلیمی اداروں کی قیادت اور فیکلٹی کو تربیت دینے کے لیے مینٹرنگ پروگرام فار یونیورسٹیز کا آغاز کردیا ہے۔ یہ پروگرام ہائر ایجوکیشن کمیشن کے خواتین کو بااختیار بنانے اوراُن کی رہنمائی کے لیے نومبر 2024 میں شروع کیے گئے ’ویمن امپاورمنٹ اینڈ مینٹورنگ پروگرام‘ جو 18 بنیادی طور پرخواتین کی جامعات کے لیے شروع کیا گیا تھا، کا توسیعی ورژن ہے۔

مینٹورنگ پروگرام فار یونیورسٹیزایک ملک گیر اقدام ہے جس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قائدانہ صلاحیت اور پیشہ ورانہ ترقی کو تقویت دینا ہے۔ یہ پروگرام سرکاری و نجی دونوں شعبہ جات کی جامعات کے فیکلٹی ممبران اور قیادت کی معاونت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی منظرنامے میں رہنمائی، تعاون اور علم کے اشتراک کے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش ایک ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اس سلسلے میں منگل کو ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں ایچ ای سی کی سینئر مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ شرکت کی۔ تقریب میں تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے بھی آن لائن شرکت کی۔

چیئرمین ایچ ای سی نے اپنے کلمات میں تعلیمی قیادت اور فیکلٹی کی رہنمائی کو ادارہ جاتی ترقی کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ صلاحیت کی حامل علمی شخصیات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایسے سینئر ماہرین تعلیم کی مہارت سے فائدہ اٹھانے میں مدد کرے گا۔

ڈاکٹر نیاز نے ’ویمن امپاورمنٹ اینڈ مینٹورنگ پروگرام‘ کی کامیابی اور اس اقدام کے دائرہ کار کو تمام یونیورسٹیوں تک پھیلانے پر نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "اس کی بہت ضرورت تھی، اور یہ پروگرام کو مزید بڑھانے کا بہترین وقت تھا۔‘‘

ڈاکٹر نور آمنہ نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیوں کے لیے شروع کردہ یہ پروگرام تعلیمی قیادت اور فیکلٹی کو درپیش مختلف نوع کے مسائل کو دور کرنے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اپنے استفادہ کنندگان کو اداروں میں چیلنجوں سے نمٹنے، قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اپنے متعلقہ تعلیمی اداروں کی ترقی اور تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔

وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے ’ویمن امپاورمنٹ اینڈ مینٹورنگ پروگرام‘ کے اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام یونیورسٹیوں کو ان کی اپنی ضروریات کے مطابق نئے ماڈیولز کو شامل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام میں ماہرین تعلیم اور سیکھنے والوں کو بااختیار بنا کر پورے تعلیمی ماحولیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے