قازقستان کے وزیرِ سائنس و اعلیٰ تعلیم و سیاست نوربیک نے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ قائد اعظم یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے یونیورسٹی میں قائم الفارابی سینٹر کا افتتاح کیا جس سے تعلیمی اور تحقیقی شراکت داری کو فروغ دینے کی بات چیت ہوئی۔قازق وزیر نوربیک نے اس موقع پر کہا کہ ماضی میں اسلامی انقلاب کا ایک دور رہا ہے اور مغربی دنیا کے لیے الفارابی انتہائی اہم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارسطو کے بعد الفارابی کو دوسرے استاد کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور اسی میراث کو مدنظر رکھتے ہوئے الفارابی سینٹر علمی تبادلوں کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے ہاں زرعی شعبے میں بڑی صلاحیت موجود ہے جسے علمی تعاون کے ذریعے مستحکم کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دنیا ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے اور آج کا دن پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کے لیے مزید مواقع تلاش کرنے ہوں گے اور تعلیمی تعاون اس میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔الفارابی سینٹر کے افتتاح کو علاقائی علمی روابط کے فروغ اور مشترکہ تحقیق کے لیے ایک موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے قیام اور اس قسم کے مراکز کے ذریعے دونوں فریقین نے تعلیمی، تحقیقی اور زرعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا جو آئندہ تعلقات کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔
