عدن/یمن (مانیٹرنگ ڈیسک) — یمن کی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے کہا ہے کہ یمن میں پائیدار امن کی بنیاد ریاستی اداروں کی بحالی اور تمام ہتھیاروں کو ریاستی اختیار کے تابع کرنے میں ہے۔ ان کے مطابق ملک کا استحکام علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی، خصوصاً آبنائے باب المندب کی حفاظت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
عرب اخبار الشرق الاوسط کو 8 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں افراح الزوبہ نے واضح کیا کہ یمنی حکومت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کا مقصد ریاست کی بحالی اور حوثی ملیشیا کے کنٹرول کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کی بار بار کوششوں سے کوئی پائیدار تصفیہ سامنے نہیں آ سکا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ امن بدستور ایک راستہ ہے، تاہم کوئی بھی سیاسی حل یمنی ریاست کے اتحاد کو یقینی بنائے اور حوثیوں کو ریاستی اداروں سے باہر آزاد ہتھیار یا سیاسی اختیار برقرار رکھنے کی اجازت نہ دے۔ ان کے بقول حکومت کا مقصد محض مختلف سیاسی جماعتوں میں اقتدار کی تقسیم نہیں بلکہ آئینی اداروں کی بحالی اور جنگ و امن کے فیصلے کا اختیار صرف ریاست کے پاس رکھنا ہے۔
افراح الزوبہ نے زور دیا کہ یمن کی سلامتی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور عالمی تجارتی راستوں سے منسلک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی حمایت کو عملی پروگراموں میں تبدیل کیا جائے تاکہ یمنی حکومت کی عسکری، بحری، اقتصادی اور انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے سعودی عرب کو یمن کا بنیادی تزویراتی حامی قرار دیتے ہوئے اس کی کثیر جہتی سیاسی حمایت کا حوالہ دیا۔ وزیر خارجہ کے مطابق یمنی حکومت کو امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، جاپان اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سمیت عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی حمایت بھی حاصل ہے۔
افراح الزوبہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر زیادہ مؤثر عمل درآمد، خاص طور پر ہتھیاروں کی پابندی، پر زور دیا۔ انہوں نے اسلحہ فراہم کرنے والوں، مالی معاونت کرنے والوں، اسمگلروں اور سپلائی نیٹ ورکس میں شامل واسطوں کے خلاف اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
حوثیوں سے واپس لیے جانے والے علاقوں کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ترجیحات میں سکیورٹی کا قیام، سول انتظامیہ کی فعالیت، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، تعمیر نو، بے گھر افراد کی واپسی اور معاشی سرگرمیوں کا احیا شامل ہیں۔
انہوں نے انتقام اور اجتماعی سزا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حوثی کنٹرول والے علاقوں کے شہری بھی یمنی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ ان کے مطابق محفوظ واپسی اور معافی طے شدہ طریقہ کار کے تحت دستیاب ہو گی۔
7 اکتوبر 2026 کو عدن ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کے حوالے سے افراح الزوبہ نے اسے شہریوں کو نشانہ بنانے والا دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ انہوں نے احتساب، شہری ہوا بازی کے مضبوط تحفظ اور ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا جن سے شہری ڈھانچے یا پروازوں کو عسکری سرگرمیوں کی معاونت کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ سیاسی عمل کا دروازہ کھلا ہے، بشرطیکہ کوئی بھی تصفیہ آئینی حکومت اور مساوی شہریت کو بحال کرے اور ریاست کے متوازی کسی مسلح اختیار کو قانونی حیثیت نہ دے۔
