علمائے کرام نے خسرہ روبیلا ویکسین کی حمایت کر دی

newsdesk
4 Min Read
ای پی آئی پنجاب اور یونیسف کے سیمینار میں علمائے کرام نے خسرہ روبیلا ویکسین کی اہمیت پر زور دیا؛ مہم سترہ تا انتیس نومبر دو ہزار پچیس ہوگی

ای پی آئی پنجاب کی جانب سے یونیسف کے تعاون اور محکمہ اوقاف کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں علمائے کرام اور مشائخ نے عوامی فہم بڑھانے کے لیے صحت اور حفظانِ صحت، ماں کے دودھ پلانے، ویکسینیشن، غذائیت اور پانی و صفائی کے معاملات پر زور دیا۔ شرکاء نے بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی اہمیت پر بات کی اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات کی ضرورت اجاگر کی گئی۔معروف علماء اور علمائے کرام نے بخوبی واضح کیا کہ خسرہ روبیلا جیسے مہلک امراض سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانا ناگزیر ہے اور والدین کو اپنے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکہ دینا چاہیے۔ صوبہ پنجاب میں خسرہ روبیلا ویکسینیشن مہم سترہ تا انتیس نومبر دو ہزار پچیس کو منظم کی جا رہی ہے جس کے دوران ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ پہنچانے پر زور دیا گیا۔تقریب سے خطاب میں ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر ثمرہ خرم نے خسرہ روبیلا کی علامات، ان کے منتقل ہونے کے طریقے اور احتیاطی تدابیر کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ کمیونٹی شمولیت کے بغیر مہم کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ صوبائی خطیب علامہ مختار احمد ندیم اور سی ای او ہیلتھ لاہور ڈاکٹر آصف نے بھی ویکسین کے ثمرات اور صحت عامہ میں علماء کے مثبت کردار پر گفتگو کی۔علامہ مختار احمد ندیم نے خصوصی طور پر کہا کہ علمائے کرام کا معاشروں میں اعتماد قائم کرنے اور ویکسین کے بارے میں پھیلنے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ وہ والدین کی رہنمائی کریں اور بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی ترغیب دیں تاکہ خسرہ روبیلا کے پھیلاؤ کو موثر انداز میں روکا جا سکے۔ڈاکٹر ثمرہ خرم نے خسرہ روبیلا کے طبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی، متاثرہ بچوں میں بخار، خارش اور سانس کی تکالیف کے علاوہ شدید پیچیدگیوں کی نشاندہی کی اور بتایا کہ ویکسین کا بروقت استعمال ان خطرات کو کم کرتا ہے۔ انہوں نے کمیونٹی کی سطح پر صفائی، مناسب تغذیہ اور ماں کے دودھ پلانے کو بھی بیماریوں سے بچاؤ کے اہم ستون قرار دیا۔سیمینار میں یونیسف کے نمائندے اور ایس بی سی کے ماہرین جناب اعجازالرحمن، جناب حبیب اصغر، جناب بلال خالد اور جناب عقیل سرفراز نے بھی اپنے تجربات اور کمیونٹی بیسڈ حکمتِ عملیاں شیئر کیں اور کہا کہ مذہبی رہنماؤں کی شمولیت سے ویکسین کے حوالے سے شکوک و شبہات ختم کیے جا سکتے ہیں۔تقریب میں صحت اور حفاظتی اداروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ خسرہ روبیلا سے بچاؤ کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی ویکسینیشن مہمات اور مذہبی رہنماؤں کی حمایت دونوں ضروری ہیں۔ اس کاوش میں محکمہ صحت و آبادی، ای پی آئی پاکستان، عالمی ادارۂ صحت پاکستان، یونیسف پاکستان، حکومتِ پنجاب، گیوی، حکومتِ پاکستان، آل پاکستان ویکسی نیٹرز گروپ، محکمۂ اوقاف، حج و مذہبی امور، نیشنل انسٹی ٹیوٹس برائے صحت پاکستان اور وزارتِ قومی صحت و ضوابط و ہم آہنگی نے تعاون فراہم کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے