ترکمانستان کی آزادی کے 35 سال: اسلام آباد بریفنگ میں علاقائی رابطوں اور تاپی منصوبے پر زور

newsdesk
16 Min Read
ترکمانستان کے سفارتخانے نے پاکستانی میڈیا کو 2026 کی قومی کامیابیوں، تاپی منصوبے اور علاقائی رابطوں پر بریفنگ دی۔

اسلام آباد: ترکمانستان کے سفارتخانے نے پاکستانی میڈیا کے لیے ایک بریفنگ کا اہتمام کیا جس میں 2026 کے دوران ترکمانستان کی قومی کامیابیوں، بین الاقوامی سفارت کاری، سرمایہ کاری کے مواقع، توانائی کے منصوبوں اور پاکستان کے ساتھ علاقائی رابطوں کے فروغ سے متعلق تفصیلات پیش کی گئیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترکمانستان 2026 میں اپنی آزادی کی 35 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اس سال کو “Independent, Permanently Neutral Turkmenistan— Homeland of Purposeful Heavenly Horses” کے عنوان سے منسوب کیا گیا ہے۔ ترکمانستان نے اس عرصے میں سیاسی، معاشی، ثقافتی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد اہم سرگرمیوں کی میزبانی اور شرکت کے ذریعے اپنی ترجیحات کو آگے بڑھایا۔

ترکمانستان کے مطابق ملک کی پالیسی کا بنیادی محور امن، باہمی احترام، مشترکہ خوشحالی، صنعتی جدیدیت، سرمایہ کاری کا فروغ، توانائی کی ترقی، ماحولیاتی تعاون اور خطے کو آپس میں جوڑنے والے منصوبے ہیں۔ بریفنگ میں پاکستان کو ترکمانستان کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے توانائی، ٹرانسپورٹ، تجارت اور علاقائی رابطوں کے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔

قومی تقریبات اور اہم پیش رفت

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 4 سے 6 ستمبر 2026 تک نیدرلینڈز میں آہل تیکے گھوڑوں کے حسن اور گھڑ سواری کے پہلے عالمی مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ اس تقریب نے ترکمانستان کے معروف آہل تیکے گھوڑوں کے ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا، جو ترکمان قومی شناخت، روایات اور تاریخی ورثے کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

23 ستمبر 2026 کو اشک آباد کے مسلحت کوشگی محل میں ترکمانستان کی خلق مصلحتی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ترکمان عوام کے قومی رہنما اور خلق مصلحتی کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف نے کی۔ اجلاس میں صدر سردار بردی محمدوف اور دیگر مقررین نے آزادی کے برسوں میں ملک کی کامیابیوں، ریاستی ترقی کی ترجیحات اور عوامی فلاح کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔

اجلاس میں کئی اہم اسٹریٹجک دستاویزات کی منظوری دی گئی جن پر بعد ازاں صدر سردار بردی محمدوف نے دستخط کیے۔ ان میں 2030 تا 2045 ترکمانستان کی صنعتی ترقی کی قومی حکمت عملی، “بین الاقوامی قانون اور ترکمانستان کی غیرجانبداری” کے عنوان سے قومی تصور، اور 2031 تک ریاستی نوجوان پالیسی سے متعلق پروگرام شامل ہیں۔

27 ستمبر 2026 کو ترکمانستان نے ملک بھر میں آزادی کی 35 ویں سالگرہ منائی۔ مرکزی تقریبات اشک آباد میں ہوئیں جہاں صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ان چیف، آرمی جنرل سردار بردی محمدوف نے فوجی پریڈ میں شرکت کی۔ تقریبات میں جدید فوجی سازوسامان، فضائی پریڈ، بحیرہ کیسپین میں بحری پریڈ اور ثقافتی پروگرام شامل تھے۔ دارالحکومت میں خصوصی کنسرٹ اور آتش بازی کے ساتھ تقریبات اختتام پذیر ہوئیں۔

سرمایہ کاری اور معاشی مواقع

یکم اور 2 اکتوبر 2026 کو اشک آباد میں ترکمانستان انویسٹمنٹ فورم 2026 منعقد ہوا۔ فورم میں سرمایہ کاروں، اختراع کاروں، مالیاتی اداروں، پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ بریفنگ کے مطابق اس فورم میں 40 سے زائد ممالک کی 200 سے زیادہ کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے 800 سے زائد مندوبین اور مہمان شریک ہوئے، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔

فورم کے دوران ترکمانستان کی ریاستی وزارتوں اور اداروں کی جانب سے دوطرفہ دستاویزات، تجارتی معاہدوں اور تعاون کی یادداشتوں کے وسیع پیکج کو حتمی شکل دی گئی۔ اس فورم کو سرمایہ کاری کے مواقع، بین الاقوامی کاروباری روابط اور قومی معیشت کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔

آوازہ میں علاقائی اور بین الاقوامی مکالمہ

اکتوبر 2026 میں ترکمانستان کے قومی سیاحتی زون آوازہ میں اعلیٰ سطح کی کئی بین الاقوامی سرگرمیاں ہوئیں جنہوں نے علاقائی مذاکرات اور کثیرالجہتی تعاون میں ترکمانستان کے کردار کو اجاگر کیا۔

7 اکتوبر کو دولت مشترکہ آزاد ریاستوں، سی آئی ایس، کے وزرائے خارجہ کونسل کا معمول کا اجلاس آوازہ میں منعقد ہوا۔ شرکاء نے بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال، خارجہ پالیسی میں ہم آہنگی اور رکن ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ ترکمانستان کی چیئرمین شپ اور سی آئی ایس کی 35 ویں سالگرہ کے تناظر میں 2026 کی سرگرمیوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔

اسی روز وسطی ایشیائی ملکوں کا آمو دریا اور سیر دریا کے آبی وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس بھی ہوا۔ وفود نے آبی وسائل کی موجودہ صورتحال، چیلنجز اور پائیدار استعمال کے بارے میں قومی رپورٹس پیش کیں۔ بات چیت کے بعد شرکاء نے آبی انتظام میں علاقائی تعاون کے لیے مشترکہ سوچ کو آگے بڑھایا۔

7 اکتوبر کو ہی “امن کے قیام اور پائیدار ترقی میں خواتین کا کردار” کے موضوع پر بین الاقوامی خواتین مکالمہ منعقد ہوا۔ مقررین نے خواتین کے حقوق، بااختیار بنانے، مساوی مواقع اور قومی سطح پر جامع پالیسیوں پر زور دیا۔ شرکاء نے کہا کہ 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے اہداف کے لیے خواتین کی بھرپور شرکت ضروری ہے۔ مکالمے کے اختتام پر حتمی دستاویز منظور کی گئی۔

اسی روز “آبادیاتی عمل اور پائیدار ترقی: عصر حاضر کے چیلنجز اور بین الاقوامی تجربہ” کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس میں آبادیاتی نظم و نسق کے سائنسی طریقوں اور طویل مدتی سماجی و معاشی منصوبہ بندی میں آبادی سے متعلق اشاریوں کے استعمال پر غور کیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر بھی حتمی دستاویز منظور کی گئی۔

8 اکتوبر 2026 کو وسطی ایشیائی ملکوں اور جمہوریہ آذربائیجان کے سربراہان مملکت کا آٹھواں مشاورتی اجلاس آوازہ میں ہوا۔ آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے ترکمان عوام کے قومی رہنما قربان قلی بردی محمدوف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال اگست میں آوازہ میں ملاقات کے دوران انہیں اس مشاورتی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ 2026 کا اجلاس اس علاقائی مشاورتی فارمیٹ میں آذربائیجان کی مکمل رکن کی حیثیت سے پہلی شرکت کا موقع تھا۔

اجلاس کے بعد “وسطی ایشیائی ممالک اور جمہوریہ آذربائیجان کے سربراہان مملکت کے مشاورتی اجلاس کی ضابطہ جاتی دستاویزات” سے متعلق فیصلہ اور آٹھویں مشاورتی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا۔ ترکمان عوام کے قومی رہنما نے کہا کہ یہ مشاورتی اجلاس علاقائی مسائل کے حل کے لیے مؤثر پلیٹ فارم بن چکے ہیں اور علاقائی دائرے سے آگے بین الاقوامی اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔

9 اکتوبر 2026 کو آوازہ میں سی آئی ایس کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا اجلاس ہوا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پہلی بار خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں سیاسی و سفارتی، تجارتی و معاشی اور ثقافتی و انسانی تعاون پر غور کیا گیا۔ اہم فیصلوں میں 2029 کو “سی آئی ایس ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی کا سال” قرار دینا شامل تھا۔

اسی روز پہلی کیسپین ماحولیاتی سمٹ بھی آوازہ میں منعقد ہوئی۔ سمٹ میں بحیرہ کیسپین اور اس کے گرد و نواح کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون پر بات ہوئی۔ سربراہان مملکت نے سمٹ کے نتائج اور ماحولیاتی مسائل کے مشترکہ حل کے عزم پر مبنی فیصلہ منظور کیا۔

توانائی، تعمیرات اور صنعت

21 سے 23 اکتوبر 2026 تک اشک آباد میں “آئل اینڈ گیس آف ترکمانستان 2026” کے عنوان سے 31 ویں بین الاقوامی کانفرنس و نمائش منعقد ہوئی۔ اس میں 75 ممالک سے 1500 سے زیادہ مندوبین اور تقریباً 450 کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس میں دنیا کے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شامل گالکینیش گیس فیلڈ کی مزید ترقی، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن یعنی تاپی منصوبے پر پیش رفت، قدرتی گیس کی برآمدی راہوں میں تنوع، بحیرہ کیسپین کے ترکمان سیکٹر میں بین الاقوامی تعاون، گیس پروسیسنگ اور پیٹروکیمیکل صنعتوں کی توسیع جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔

اس کانفرنس کے نتیجے میں چین، ملائیشیا، قازقستان اور ازبکستان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پانچ دوطرفہ معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ ان معاہدوں کا مقصد توانائی تعاون، تیل و گیس خدمات کی توسیع اور صنعتی مصنوعات کی فراہمی کو آسان بنانا ہے۔

3 سے 5 نومبر 2026 تک اشک آباد میں تعمیرات، صنعت اور توانائی سے متعلق سی آئی ای ٹی 2026 بین الاقوامی کانفرنس و نمائش منعقد ہوئی۔ اس میں حکومتی نمائندوں، بین الاقوامی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، صنعت کاروں، معماروں، انجینئروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں تعمیرات، شہری ترقی، صنعتی جدیدیت، کیمیکل و پیٹروکیمیکل پیداوار، توانائی کی ترقی، توانائی کی بچت، ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹلائزیشن اور اسمارٹ ٹیکنالوجیز پر توجہ دی گئی۔

ترکمانستان پاکستان تعاون اور تاپی منصوبہ

بریفنگ میں کہا گیا کہ توانائی تعاون ترکمانستان اور پاکستان کے تعلقات کا اہم ستون ہے۔ دونوں ممالک قابل اعتماد توانائی رسد، علاقائی بنیادی ڈھانچے اور معاشی رابطوں کے فروغ میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس شراکت داری کا مرکزی منصوبہ تاپی گیس پائپ لائن ہے، جس کے ذریعے ترکمانستان کے گالکینیش گیس فیلڈ سے قدرتی گیس جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے سے متعلق آزاد تخمینوں کے مطابق گالکینیش فیلڈ میں قدرتی گیس کے اندازاً 27 ٹریلین مکعب میٹر ذخائر موجود ہیں۔

بریفنگ کے مطابق تاپی منصوبہ پاکستان کے لیے کئی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ ترکمان گیس تک رسائی سے پاکستان اپنی توانائی سلامتی کو مضبوط اور رسد کے ذرائع کو متنوع بنا سکتا ہے۔ قابل اعتماد گیس رسد گھریلو، صنعتی اور تجارتی شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ یہ منصوبہ شریک ملکوں کے درمیان معاشی انحصار، مشترکہ بنیادی ڈھانچے کے ذریعے تعاون، صنعتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ سرحد پار معاشی انفراسٹرکچر خطے میں مشترکہ مفادات اور پرامن تعاون کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تاپی راہداری کے ساتھ افغانستان اور پاکستان کے راستے 1,635 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک کمیونیکیشن لائن کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد پائپ لائن کی نگرانی میں مدد اور یورپ، ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو جوڑنے والی اعلیٰ صلاحیت کی ٹیلی کمیونیکیشن رابطہ سہولت فراہم کرنا ہے، جس کی مجوزہ ترسیلی صلاحیت 100 جی بی پی ایس تک بتائی گئی ہے۔

وسیع تر علاقائی انفراسٹرکچر پروگرام میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان بجلی ترسیلی منصوبہ یعنی ٹی اے پی بھی شامل ہے۔ یہ پاور ٹرانسمیشن لائن تاپی پائپ لائن اور متعلقہ تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ہے، جبکہ افغانستان کے راستے پاکستان کو 3,000 میگاواٹ تک بجلی برآمد کرنے کے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔

ترکمانستان افغانستان منصوبوں میں پیش رفت

بریفنگ میں ترکمانستان اور افغانستان کے تعاون کو علاقائی رابطہ کاری کی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیا گیا۔ ستمبر 2024 میں تاپی منصوبے کے اہم حصے سرحت آباد-ہرات سیکشن کی تعمیر شروع کی گئی۔ اسی عرصے میں تورغندی-ہرات ریلوے کے پہلے مرحلے کے تورغندی-سنابار حصے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوا، جبکہ ٹی اے پی بجلی ترسیلی منصوبے کے پہلے مرحلے کے طور پر صوبہ ہرات میں نور الجہاد پاور سب اسٹیشن کو فعال کیا گیا۔

20 اکتوبر 2025 کو ترکمان عوام کے قومی رہنما اور خلق مصلحتی کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف نے افغانستان کے صوبہ ہرات کا دورہ کیا اور سرحت آباد-ہرات گیس پائپ لائن کے اگلے مرحلے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ تعمیراتی عمل تیز کرنے کے لیے بلڈوزرز، کھدائی مشینیں، لوڈرز، ٹرک کرینیں، پائپ لیئرز، ہیوی ڈیوٹی ٹریکٹرز، موبائل پلیٹ فارم ٹریلرز اور موٹر گریڈرز سمیت خصوصی مشینری اور آلات خریدے گئے۔

10 اگست 2026 کو ترکمان عوام کے قومی رہنما نے صوبہ ماری کا ورکنگ دورہ کیا اور سرحت آباد ضلع کے اسلم چشمہ سرحدی علاقے سے افغانستان کے ورکنگ دورے پر گئے۔ بعد ازاں قربان قلی بردی محمدوف اور افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور عبدالغنی برادر کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔

ان مذاکرات میں ایندھن و توانائی کے شعبے، تاپی گیس پائپ لائن، افغانستان-ترکمانستان-آذربائیجان-جارجیا-ترکی ٹرانسپورٹ راہداری اور لاجورد بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور سمیت بڑے علاقائی منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔ ترکمان عوام کے قومی رہنما نے مشترکہ منصوبوں اور ان کے لیے قانونی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اقتصادی تعاون کے لیے ترکمان افغان کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی۔ دورے کے دوران اسٹیٹ کنسرن ترکمن گاز اور اسٹیٹ کارپوریشن افغان گیس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان اور ترکمانستان کی بڑھتی ہوئی شراکت داری وسطی اور جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے وسیع امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔ تاپی، ٹی اے پی، سرحد پار ریلوے ترقی اور فائبر آپٹک رابطے جیسے منصوبے توانائی، ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے معاشی انضمام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ترکمانستان کے ساتھ تعاون توانائی رسد میں تنوع، صنعتی استعداد، علاقائی رابطوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں اضافے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ترکمانستان کے لیے پاکستان جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی اور توانائی برآمدی راستوں میں تنوع کے اسٹریٹجک مقصد کے لیے اہم شراکت دار ہے۔

بریفنگ کے اختتام پر کہا گیا کہ 2026 کے واقعات اور اقدامات ترکمانستان کی قومی ترقی کی ترجیحات اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اس کے فعال روابط کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاپی اور ٹی اے پی منصوبے، ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر علاقائی انفراسٹرکچر اقدامات وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطوں کو نئی سمت دے سکتے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نئے مواقع کھول سکتے ہیں۔

Share This Article