اجمل بلوچ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے پوائنٹ آف سیل نصب کرنے کے خلاف تاجروں کا احتجاج 30 دسمبر کو ہوگا اور ایف بی آر کے دفاتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکام نے زبردستی کی تو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جانے کی دھمکی دی جا چکی ہے۔اجمل بلوچ نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے تاجروں نے اس قانون کے نفاذ کی شدید مخالفت کی ہے اور کہا کہ موجودہ صورت میں ملک کے تاجروں کو پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایف بی آر کے اہلکار تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں اور مختلف دفاتر میں بلا وجہ دوکانوں کو سیل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس کے بعد ازالے کے لیے رشوت طلب کی جاتی ہے۔انہوں نے بازاروں میں رونما ہونے والی مبینہ زیادتیوں کی تفصیل بھی بتائی کہ بعض اوقات دوکانداروں کو یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کی دکان سیل ہے اور جب وہ دفتر جاتے ہیں تو معاملہ بیس ہزار روپے پر ختم کر دیا جاتا ہے۔ اجمل بلوچ نے اسے منظم لوٹ کھسوٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ صورت حال تاجروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔پریس کانفرنس میں اجمل بلوچ نے حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکمرانوں میں فیصلے کرنے کی ہمت باقی نہیں رہی، نظام میں اوپر تک کرپشن سرائت کر چکی ہے اور اس چلن کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کرپشن کے سدِ باب کے لیے سخت سزاؤں کی حمایت کی اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرپٹ عناصر کو سزا دیے بغیر نظام درست نہیں ہو گا۔اجمل بلوچ نے یہ بھی کہا کہ بعض مقامات پر ضلع انتظامیہ نے تاجروں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے فوج کو تعینات کرنے کی بات کی، جس پر انہوں نے اپیل کی کہ فوج کو بدنام نہ کیا جائے اور تاجروں پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر بلیو ایریا میں چند دوکانداروں کو قانون سازی کے نام پر بلیک میل کیے جانے کی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ قانون صرف دوکانداروں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔اجمل بلوچ نے احتجاج کی شرائط واضح کیں اور کہا کہ اگر پوائنٹ آف سیل کا یہ قانون واپس نہ لیا گیا تو وہ ملک گیر احتجاج اور شٹر ڈاؤن کی تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ 30 دسمبر کو آبپارہ چوک میں جمع ہوں اور مل کر اسے روکنے کی کوشش کریں گے تا کہ تاجروں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔پریس کانفرنس میں پیش کردہ موقف کے مطابق پوائنٹ آف سیل کے نفاذ سے متعلق خدشات اور تاجروں پر پڑنے والے ممکنہ معاشی اور انتظامی اثرات کو اجمل بلوچ نے نمایاں کیا اور متعلقہ اداروں سے فوری توجہ اور بات چیت کا مطالبہ کیا گیا۔
