ٹماٹر اور آم کی ویلیو چین میں غذائی ضیاع کی روک تھام، پائیدار حکمت عملی کی ضرورت پر زور
ڈاکٹر انیلا افضل
اسلام آباد: پاکستان کے زرعی شعبے خصوصاً ٹماٹر اور آم کی ویلیو چین میں بعد از برداشت نقصانات ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ (ACIAR) کے تعاون سے پاکستان اور سری لنکا میں کیے گئے تحقیقی منصوبے کے نتائج کی روشنی میں ماہرین نے پائیدار اور کاروبار دوست حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے تاکہ زرعی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو مضبوط بنایا جا سکے اور خواتین کاشتکاروں کو بااختیار بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق زرعی ایس ایم ایز دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، تاہم انہیں ساختی اور مالیاتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ چھوٹے زرعی رقبے کے باعث لاگت میں کمی اور ویلیو ایڈیشن محدود رہتا ہے، جبکہ سرمایہ تک رسائی اور مسابقتی شرح پر قرض کا حصول بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ انتظامی، تکنیکی اور ٹیکس سے متعلق مہارت کی کمی کے باعث بیشتر ادارے غیر رسمی معیشت تک محدود رہتے ہیں۔ رسمی شعبے میں منتقلی کے دوران انہیں ٹیکس کے بوجھ میں اچانک اضافے جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں عالمی سطح پر کوآپریٹو ماڈل کو ایک مؤثر حل قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت چھوٹے کاشتکار وسائل کو یکجا کر کے اپنی پیداوار کو منظم انداز میں منڈی تک پہنچاتے ہیں، جس سے لاگت میں کمی، سودے بازی کی بہتر پوزیشن اور سرمایہ کے حصول میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ بھارت کی امول ڈیری اور سیوا جیسی مثالیں اس ماڈل کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس ضمن میں سمیڈا جیسے ادارے سہولت کار کا کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ پیشہ ورانہ طرز حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تحقیقی نتائج میں زرعی شعبے میں خواتین کی شمولیت کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ دیہی علاقوں سے مردوں کی شہروں کی جانب ہجرت کے باعث خواتین پر زرعی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، تاہم ثقافتی رکاوٹیں، توسیعی خدمات تک محدود رسائی اور مالی مسائل ان کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں فاطمہ فرٹیلائزر، زیڈ ٹی بی ایل، بائر اور نیسلے پاکستان جیسے اداروں نے خواتین کی شمولیت کے پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ انہیں جدید زرعی ویلیو چین کا حصہ بنایا جا سکے۔
ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین ایکسٹینشن ورکرز کی تعیناتی، مرحلہ وار ٹیکس نظام، سستے قرضوں کی سہولت، سرکاری خریداری میں ترجیح اور ودہولڈنگ ٹیکس میں رعایت جیسے اقدامات ایس ایم ایز کو رسمی معیشت میں لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس وقت غیر رسمی ادارے بجلی کے بلوں کے ذریعے مختلف ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لہٰذا ٹیکس کی پابندی کرنے والے اداروں کو ان بوجھوں سے استثنا دینا ایک مؤثر آغاز ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹماٹر اور آم کی ویلیو چین میں غذائی ضیاع میں کمی صرف تکنیکی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، کوآپریٹو ماڈل، صنفی شمولیت اور دانشمندانہ مالی مراعات پر مبنی جامع حکمت عملی درکار ہے۔ ایسے شواہد پر مبنی اقدامات پاکستان کے زرعی و غذائی نظام کو مضبوط بنانے اور دیہی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
