تمباکو محصولات اور نئے نیکوٹین مصنوعات کی نگرانی کی اپیل

newsdesk
5 Min Read
ماہرین نے نوجوانوں کی حفاظت اور صحت عامہ کے لیے تمباکو محصولات بڑھانے اور تمام نیکوٹین مصنوعات کی سخت ضابطہ بندی کا مطالبہ کیا

اسلام آباد میں منعقدہ ماہر مشاورت میں تحفظِ تمباکو و نیکوٹین اتحاد کے ماہرین نے ملک میں تمباکو اور نئے نیکوٹین مصنوعات کی تیز رفتار اضافی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس اجلاس میں مختلف طبی، معاشی اور پالیسی تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں معروف شہری تنظیمیں اور طبی ماہرین شامل تھے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو نشانہ بنا کر مارکیٹنگ کی جانے والی نئی مصنوعات سے قومی صحت و اقتصادی مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔شرکاء نے کہا کہ مارکیٹ میں اب ہیٹڈ تمباکو مصنوعات، برقی نیکوٹین ڈیوائسز، نیکوٹین پاؤچز اور دیگر نیکوٹین پر مبنی سامان تیزی سے فروخت ہو رہے ہیں اور ان کی تشہیر خصوصاً نوجوان صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے ہونے والی حکمتِ عملی تشویشناک ہے۔ اجلاس میں یہ واضح کیا گیا کہ جامع ضابطہ بندی کے بغیر ان مصنوعات کا پھیلاؤ زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔تمباکو محصولات کے موجودہ ڈھانچے پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرِ پالیسی آصف اقبال نے بتایا کہ روایتی سگریٹیں خطے کے مقابلے میں سستی رہ گئی ہیں اور سن دو ہزار تیئس کے محصولات میں اضافے کا اثر افراطِ زر اور آمدنی میں اضافے کے باعث کم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں سگریٹ کی قیمتوں میں تقریباً ۱۷٫۴ فیصد اضافے سے حکومت کو اضافی قریباً ۵۱ ارب روپے آمدنی حاصل ہو سکتی ہے اور اس سے تمباکو نوشی میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ڈاکٹر صبا امجد نے اجرتی اور صحتیاتی بوجھ کی تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو کے باعث سالانہ معاشی نقصان تقریباً ۶۱۵ ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے، جس میں علاج معالجہ کے اخراجات اور پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ شرکا نے ملکی ٹیکس نظام کے دو درجے والے ایکسیز ٹیکس کی ناانصافی کی نشاندہی کی جس کے سبب اقتصادی برانڈ کی سگریٹیں سستی رہتی ہیں اور خاص طور پر کم آمدنی والے طبقوں اور نوجوانوں میں تمباکو استعمال برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ دو درجے والا نظام ختم کرنے سے لگ بھگ ۲۷۱ ہزار بالغ افراد تمباکو چھوڑ سکتے ہیں اور تقریباً ۳۶۹ ہزار نوجوانوں کی شروعات روکی جا سکتی ہے، جس سے طویل مدت میں ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔سیکنڈری مصنوعات خصوصاً بغیر دھونی والے تمباکو کی ٹیکس نیٹ میں شمولیت کے امکانات پر عمار رشید نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر اس شعبے کو باقاعدہ محصولات کے دائرے میں لایا جائے تو آنے والے برسوں میں چند دہائیوں ارب روپے تک اضافی آمدنی ممکن ہے اور استعمال میں اگلے پانچ سال میں تا حدودِ ۴۰ فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ شرکا نے زور دیا کہ اس کے لیے لائسنسنگ، معیاری پیکیجنگ اور سخت مارکیٹ نگرانی ضروری ہے۔پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ثناءاللہ غمّان نے خطاب میں کہا کہ ملک مزید تمباکو کنٹرول اصلاحات کا انتظار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ تمباکو محصولات میں مناسب اضافہ اور تمام نیکوٹین مصنوعات کی یکساں ضابطہ بندی کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے تاکہ صحت عامہ بہتر ہو اور کارکنان و خاندانوں پر پڑنے والا معاشی بوجھ کم ہو سکے۔بلو وینز کے تَبلیغی رہنما قمر نسیم نے صنعت کی جانب سے نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنے کے طریقوں کی نشاندہی کی، جن میں پرکشش برانڈنگ، اثرورسوخ رکھنے والے افراد کے ذریعے تشہیر، تفریحی تقریبات کی اسپانسرشپ اور جدید مصنوعات کی ڈیزائن شامل ہیں۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ ملک میں تمام تمباکو اور نیکوٹین مصنوعات کے لیے جامع ضابطہ کاری کا نفاذ کیا جائے، غیرقانونی تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف قانون نافذ کرنے والوں کی صلاحیتیں مضبوط کی جائیں، صنعت کی مداخلت سے حکمرانی کو محفوظ رکھا جائے اور عوامی شعور بیدار کرنے والے پروگراموں کو وسعت دی جائے۔اجلاس کے شرکا نے واضح طور پر کہا کہ حکومتِ پاکستان کو شواہد پر مبنی ایسی پالیسیاں اپنانا چاہئیں جو ایک طرف صحت عامہ کا تحفظ کریں اور دوسری طرف نوجوان نسل کو نشے سے بچائیں اور قومی مالیاتی استحکام کو مضبوط کریں۔ ان سفارشات میں تمباکو محصولات میں اصلاحات، نئے نیکوٹین مصنوعات کی مکمل نگرانی اور منظم نفاذ کے اقدامات شامل ہیں تاکہ مستقبل میں بیماریوں اور مالی نقصانات میں کمی لائی جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے