اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریفزادہ اور وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مسادق ملک نے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں فریقین نے پانی، ماحولیاتی تعاون اور جنگلی حیات کے تحفظ کو علاقائی سطح پر اہم مسئلہ قرار دیا اور مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا۔بات چیت میں خاص طور پر دوشنبے میں منعقد کی جانے والی چوتھی اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس برائے عملِ دہائیِ بین الاقوامی "پانی برائے پائیدار ترقی” (۲۰۱۸ تا ۲۰۲۸) پر توجہ دی گئی، جہاں ڈاکٹر مسادق ملک وزیر اعظم کی نمائندگی کریں گے۔ اس موقع پر باہمی تعاون کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے امکانات اور پاکستان کے نقطۂ نظر پر تبادلہ خیال ہوا۔سفیر یوسف شریفزادہ نے دونوں ممالک کے جغرافیائی شباہتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہر ملک کے پاس تقریباً ۱۳۰۰۰ گلیشیئرز موجود ہیں اور وقت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث تقريباً ۱۰۰۰ گلیشیئرز ضائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے گلیشیئر پگھلاؤ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر مربوط حکمت عملی اور ماحولیاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں جنگلی حیات کے تحفظ پر بھی خصوصی تبادلہ خیال ہوا اور دونوں طرف سے مارخور، برفانی چیتا، آئبیکس اور ہجرتی پرندوں جیسے مشترکہ محفاظتی انواع کی حفاظت کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔ تاجکستان کی جانب سے محفوظ وادیاں اور تحفظی زونز قائم کرنے کے تجربات شیئر کیے گئے اور ممکنہ معاہدوں اور مفاہمت ناموں کی تیاری پر بات چیت ہوئی۔ڈاکٹر مسادق ملک نے کہا کہ توانائی، پانی اور ماحولیاتی امور آپس میں مربوط ہیں اور علاقائی ممالک کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا مل کر کرنا ہوگا۔ پاکستان نے ماحولیاتی تعاون، پانی کے انتظام، جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی میں تاجکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ملاقات میں علاقائی کنیکٹوٹی کے فروغ اور پاکستان و تاجکستان کے درمیان ایک علاقائی کورڈور کے قیام کی خواہش بھی زیرِ بحث آئی جو نہ صرف ماحولیاتی اور جنگلی حیات کے تعاون بلکہ وسیع تجارتی روابط اور رابطوں کو بھی مضبوط کرے گا۔ سفیر نے علاقائی موسمیات اور جدید حل، بشمول پانی اور موسمی انتظام کے نئے طریقہ کار کے استعمال کے امکانات بھی اجاگر کیے۔ملاقات کے آخر میں دونوں رہنماؤں نے تاریخی اور ثقافتی روابط کا ذکر کیا اور دو طرفہ بھائی چارہ اور تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ ماحولیاتی تعاون کو باہمی مفاد کا کلیدی میدان قرار دیا گیا۔
