اسلام آباد میں ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا جس میں دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت عوام کی جانب سے اٹھائے گئے دکھ اور مصائب کو مرکزی اہمیت دی گئی۔ نمائش کا موضوع سوویت عوام کے قتلِ عام کے متاثرین کی یاد کے حوالے سے رکھا گیا جس میں سن 1941 تا 1945 کے دوران ہونے والے واقعات کو تصویروں کے ذریعے پیش کیا گیا۔نمائش میں فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے اساتذہ و طلبا کا ایک وفد بھی شریک تھا جس کی قیادت ڈاکٹر فیصل جاوید نے کی۔ اس وفد میں ڈاکٹر سکندر زرّین اور چوہدری رشید سول سمیت متعدد اساتذہ اور طلبا شامل تھے جنہوں نے نمائش کا جائزہ لیا اور تاریخی شواہد کا معائنہ کیا۔تقریب میں متعدد ممالک کے سفارتی نمائندے بھی موجود تھے جن میں روس، ایران، آذربائیجان اور ازبکستان کے نمائندے شامل تھے۔ روسی سفیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوویت عوام کی قربانیاں عالمی تاریخ میں اکثر نظر انداز رہتی ہیں اور اگر سوویت یونین نے نازی قوتوں کا مقابلہ نہ کیا ہوتا تو یورپ کا نقشہ مختلف ہوتا۔کنسورشیم برائے ایشیائی پیسفک اور یورپی مطالعات کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گلِ عائشہ بھٹی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تاریخی سانحات کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے حقائق کو بھلانا آئندہ نسلوں کے لیے خطرناک سبق چھوڑ سکتا ہے۔شرکاء نے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے شمعیں روشن کیں اور اس دوران پاکستان اور روس کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔ نمائش میں رکھی گئی تصاویر میں جنگ کے متاثرین، تباہی کے مناظر اور زندہ رہنے کی کہانیوں کو واضح انداز میں دکھایا گیا تھا، جس نے شرکاء کو گہرے تاثرات دیے۔نمائش میں پیش کی گئی دستاویزی تصاویر نے سوویت عوام کی جدوجہد اور مصائب کو نمایاں طور پر اجاگر کیا اور شرکاء نے تاریخی حقائق کے ادراک پر زور دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیڈرل اردو یونیورسٹی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتی ہے اور طلبا کو عالمی مسائل میں شرکت کے مواقع فراہم کر کے ان کے علمی و پیشہ ورانہ افق کو وسیع کرتی ہے۔
