سندھ میں عالمی ادارہ صحت اور حکومت کی ویکسین مہم

newsdesk
3 Min Read

عالمی ادارہ صحت اور سندھ حکومت کی مشترکہ ویکسینیشن مہم، 15 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور حکومت سندھ نے مشترکہ طور پر ایک وسیع پیمانے کی ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد اُن تقریباً 15 لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے جو ماضی میں حفاظتی ٹیکے لگوانے سے محروم رہ گئے تھے۔ اس مہم کا حصہ "#BigCatchUp” مہم ہے، جس کے تحت ان بچوں کو دوبارہ ویکسین فراہم کی جا رہی ہے جن کی ویکسینیشن کورونا وبا، سیلاب یا دیگر وجوہات کی بنا پر رہ گئی تھی۔

یہ خصوصی مہم دو سے پانچ سال کی عمر کے بچوں پر مرکوز ہے، کیونکہ اس عمر کے بچے گزشتہ چند برسوں میں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان بچوں میں سے زیادہ تر اہم ویکسینیشن مراحل سے محروم رہ گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ قابل تدارک بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

محکمہ صحت سندھ اور ڈبلیو ایچ او کے ماہرین مل کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ویکسینیشن کی سہولیات ہر علاقے میں محفوظ، جامع اور سب کیلئے دستیاب ہوں۔ اس جدوجہد میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ وہاں بھی بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی مکمل سہولت مل سکے اور والدین کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

یہ اقدام عالمی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ان بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ہے جو کورونا وبا کے دوران ویکسینیشن سے محروم رہ گئے۔ دنیا بھر میں ویکسینیشن گیپ کم کرنے کے لیے اس قسم کی مہمات جاری ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کم رہی ہے۔ اس مہم میں ڈبلیو ایچ او کی تکنیکی رہنمائی، لاجسٹکس اور مانیٹرنگ کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔

اس مہم سے نہ صرف بچوں کو مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچایا جائے گا بلکہ پاکستان میں بچوں کی صحت کے اہداف کے حصول کی طرف پیش رفت بھی بحال ہو گی۔ اگر سندھ میں یہ کوشش کامیاب ثابت ہوئی تو دیگر صوبوں میں بھی اسی طرز کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے