سندھ اسمبلی کی عالمی پارلیمانی کانفرنس کی تاریخی میزبانی

newsdesk
5 Min Read
سندھ اسمبلی نے چودہ برس بعد عالمی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کی، کراچی ڈیکلیریشن اپنایا گیا اور شفافیت، شمولیت اور ڈیجیٹل گورننس پر زور دیا گیا۔

سندھ اسمبلی نے چودہ برس بعد ایک مرتبہ پھر عالمی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی سنبھالی جس میں اس خطے کے پارلیمانی مسائل اور مستقبل کے چیلنجز پر مفصل گفتگو ہوئی۔ تین روزہ یہ اجلاس سی پی اے کے ساتویں ایشیا ریجنل اور ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا کی دوسری مشترکہ کانفرنس کے طور پر منعقد ہوا، جس میں عالمی پارلیمانی کانفرنس کے عنوان کے تحت اعتماد، شمولیت، جدت اور امن جیسی بنیاد ی اقدار پر زور دیا گیا۔کانفرنس میں ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے چار ممالک اور سترہ ریاستی اسمبلیوں کے نمائندے شریک تھے، جہاں ایک سو پچاس سے زائد اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، پارلیمنٹرینز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کر کے بحث و مباحثہ کو متحرک رکھا۔ افتتاحی، پلینری اور بریک آؤٹ سیشنز میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، پارلیمانی ہم آہنگی، عوامی اعتماد اور شفافیت پر خاص توجہ دی گئی۔افتتاحی سیشن میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور سندھ کی تاریخی و تہذیبی شناخت کے ساتھ جمہوری روایات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مکالمہ، برداشت اور پارلیمانی تعاون کو امن اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مستقبل کی پارلیمانوں کے لئے اعتماد، شمولیت، جدت اور امن کو بنیادی ستون بتایا۔کانفرنس کے دوسرے روز ہونے والے متوازی بریک آؤٹ اور پلینری سیشنز میں جعلی خبروں، ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کو جمہوریت اور عوامی اعتماد کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ مقررین نے زور دیا کہ قانون سازی، میڈیا کی ذمہ داری اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان مسائل کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے، اور یہی اصلاحی راستہ عالمی پارلیمانی کانفرنس کے مباحث کا ایک اہم محور بنا۔موسمیاتی تبدیلی کے متعلق سیشنز میں کہا گیا کہ ماحولیاتی بحران خاص طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، اس لئے مضبوط قانون سازی اور علاقائی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ پارلیمانی احتساب کے جلسوں میں بجٹ، آڈٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے کردار کو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔پلینری سیشن میں خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل تشدد پر تشویش ظاہر کی گئی اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے لیے مؤثر قانون سازی پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل حفاظت اور قانون سازی دونوں پر یکساں توجہ درکار ہے۔کانفرنس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی موجودگی میں اختتامی تقریب ہوئی جہاں متفقہ طور پر کراچی ڈیکلیریشن کی منظوری دی گئی۔ اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی میزبانی ادارہ جاتی اعتماد، شفافیت اور کھلے پن کی عکاس ہے جبکہ اجلاس میں ہونے والی بحثیں مستقبل دوست اور عملی نوعیت کی تھیں۔سی پی اے کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن ٹوِگ نے میزبانوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی ڈیکلیریشن جمہوریت، انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی تعاون کے سلسلے میں مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔ سری لنکا، مالدیپ اور ملائیشیا کے نمائندوں نے بھی کانفرنس کو کامیاب اور یادگار قرار دیا۔کراچی ڈیکلیریشن میں پارلیمانوں کو مضبوط بنانے، عوامی اعتماد کی بحالی، خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کی شمولیت، ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور پائیدار امن کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور شمولیت کے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی اور کانفرنس کی کامیابی پر میزبان ٹیم اور شریک وفود کو مبارکباد دی۔عصر کے وقت موہٹہ پیلس میں منعقد عشائیے میں ملکی و غیر ملکی مہمانوں کو سندھی ٹوپیاں اور اجرک کے تحائف پیش کیے گئے، جس سے محفل میں مقامی ثقافتی اہمیت اور مہمان نوازی کا تاثر مزید مستحکم ہوا۔ مجموعی طور پر یہ عالمی پارلیمانی کانفرنس نہ صرف مباحث و سفارشات کا ایک اہم موقع رہی بلکہ علاقائی تعاون اور پارلیمانی اصلاحات کے لیے عملی راہیں ہموار کرنے کا پلیٹ فارم بھی ثابت ہوئی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے