دو مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے اسکاٹش ڈاکیومنٹری انسٹی ٹیوٹ اور برٹش کونسل کے اشتراک سے پٹاخہ پکچرز کے آٹھویں ایڈیشن ’کلیم دی فریم‘ کے لیے آٹھ فیلووز کے انتخاب کا اعلان کیا ہے۔ پٹاخہ پکچرز پاکستان کا سب سے بڑا فلم سازی مینٹورشپ اور فنڈنگ پروگرام ہے۔
اس سال منتخب ہونے والی خواتین فلم ساز چار دستاویزی فلموں پر کام کریں گی، جن میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے مزاحمت، موسمیاتی تبدیلی، شناخت اور سماجی تبدیلی کے موضوعات کو اجاگر کیا جائے گا۔ ان کہانیوں میں پاکستان کی پہلی خاتون ڈرفٹر، دیہی سندھ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث کم عمری کی شادی کے حقائق، چولستان میں خاندانوں کی ثابت قدمی، اور وادی شمشال میں زچگی کی صحت میں تبدیلی لانے والی خود تربیت یافتہ دائی جیسے موضوعات شامل ہیں۔
پٹاخہ پکچرز، ایس او سی فلمز کا ایک اقدام ہے، جس کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد دستاویزی فلم سازی کی نئی نسل کو فنڈنگ، بین الاقوامی رہنمائی اور عملی تخلیقی تربیت فراہم کرنا ہے۔ آغاز سے اب تک پٹاخہ پکچرز 69 ابھرتے ہوئے فلم سازوں کی معاونت کر چکا ہے، جن کی فلمیں مجموعی طور پر 25 سے زائد ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں اور دنیا بھر کے 70 سے زائد بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں دکھائی جا چکی ہیں۔
پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان سے منتخب ہونے والی آٹھ فیلووز چار جوڑوں کی صورت میں آئندہ پانچ ماہ کے دوران چار اصل دستاویزی فلمیں تیار کریں گی۔ ’کلیم دی فریم‘ کے لیے منتخب فیلووز میں لاہور، پنجاب سے عشما اریب اور جویریہ وسیم؛ کراچی، سندھ سے علیزہ فاطمہ اور عائشہ منظور؛ لاہور، پنجاب سے کنزا وقار، ام النسا زینب اور جذبہ راحیل؛ جبکہ ہنزہ اور چترال، گلگت بلتستان سے شگفتہ رسول اور منیرہ شاہ شامل ہیں۔
پانچ ماہ پر مشتمل یہ فیلوشپ 15 جولائی 2026 سے شروع ہو گی۔ اس میں پروڈکشن فنڈنگ کے ساتھ ایک بھرپور مینٹورشپ پروگرام شامل ہو گا، جو فلم سازی کے ہر مرحلے میں معاونت فراہم کرے گا۔ فیلووز کہانی بیان کرنے، ہدایت کاری، سینماٹوگرافی، ایڈیٹنگ اور دستاویزی فلم پروڈکشن سے متعلق ورکشاپس میں حصہ لیں گی۔
معروف دستاویزی فلم ساز نوئے مینڈیل مسلسل چوتھے سال بین الاقوامی مینٹور کے طور پر پروگرام میں شامل ہوں گی۔ اس بار ان کے ساتھ مقامی اور بین الاقوامی صنعت کے مزید نمایاں ماہرین بھی شامل ہوں گے، جس سے پروگرام کے مینٹورشپ ماڈل میں نمایاں وسعت آئے گی۔ پہلی مرتبہ فیلووز کو تخلیقی اور تکنیکی مہارتوں کے ایک وسیع دائرے تک رسائی حاصل ہو گی، جبکہ ہر فلم کی تیاری کے لیے مختلف زاویوں اور خصوصی علم سے استفادہ کیا جائے گا۔
پروگرام میں ہر منصوبے کی ضروریات، مقاصد اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی نوعیت کی ورکشاپس بھی متعارف کرائی جائیں گی۔ اس زیادہ مرکوز اور ذاتی رہنمائی کے ذریعے ہر فیلو کو اپنے تخلیقی سفر کے ہر مرحلے میں مخصوص رہنمائی ملے گی۔
شرمین عبید چنائے، بانی پٹاخہ پکچرز، نے کہا کہ چند ہی برسوں میں پٹاخہ پکچرز 69 ابھرتے ہوئے فلم سازوں کو عالمی سطح تک لے گیا ہے۔ ان کے متعدد بین الاقوامی ایوارڈز اور اسکریننگز اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب پاکستانی ٹیلنٹ کی سرپرستی کی جائے تو دنیا متوجہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ’کلیم دی فریم‘ اس سفر کا اگلا باب ہے، جو کہانی سنانے والوں کے نئے گروہ کو وسائل اور پلیٹ فارم فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنی سچائیاں دنیا تک پہنچا سکیں۔
برٹش کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن نے کہا کہ وہ برٹش کونسل، پٹاخہ پکچرز اور ایس ڈی آئی فلمز کے درمیان ’پاکستان اسٹوریز‘ شراکت داری کے چوتھے مرحلے ’کلیم دی فریم‘ کے آغاز پر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ایڈیشنز میں اس شراکت داری نے فلم سازوں کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے، مستند کہانیاں بیان کرنے اور وسیع تر ناظرین تک پہنچنے کے اہم مواقع فراہم کیے۔ ان کے مطابق ’کلیم دی فریم‘ کے ذریعے پاکستان میں ابھرتی ہوئی خواتین فلم سازوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کا عزم جاری رکھا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی مشق کو مضبوط بنائیں اور اپنی منفرد نظر کو پردے پر لا سکیں۔
یہ پروگرام رواں سال کے آخر میں کراچی میں ایک شوکیس کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا، جہاں فیلووز اپنی دستاویزی فلموں کے ٹریلرز فلم سازوں، پروڈیوسرز، فیسٹیول پروگرامرز اور پاکستان کی تخلیقی برادری کے ارکان کے سامنے پیش کریں گی۔ یہ مرحلہ ان کہانیوں کو پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچانے کی جانب اگلا قدم ہو گا۔
پٹاخہ پکچرز، ایس او سی فلمز کا اقدام ہے جو پاکستان میں دستاویزی کہانی سنانے والوں کی اگلی نسل کی معاونت کے لیے وقف ہے۔
