رومانیائی مسلح افواج کے دن کی علامتی اہمیت ہر سال پچیس اکتوبر کو پوری قوم کے لیے احترام اور یادِ شہداء کا موقع بنتی ہے۔ یہ دن تاریخی یادوں اور موجودہ بین الاقوامی کردار کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے، جب قوم اپنی افواج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔روایتی طور پر فوجی دن منانے کا رواج رومانیہ میں نسبتاً نیا ہے۔ ایک ہزار آٹھ سو تیس میں ریاستی افواج کے ازسرِنو قیام اور ایک ہزار آٹھ سو انسٹھ کے بعد تشکیل پانے والی جدید فوج کے باوجود ابتدا میں مخصوص مسلح افواج کے دن کی عام روایت موجود نہ تھی، مگر وقت کے ساتھ یہ احساس پروان چڑھا کہ قوم کو اپنی فوج کے کردار اور قربانیوں کو ایک خاص دن یاد کرنا چاہیے۔پچیس اکتوبر کی تاریخی حیثیت خاص طور پر اس دن کی وجہ ہے جب انیس سو چونتالیس میں رومانیائی افواج نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران ملک کے آخری علاقہ کو دشمن کے قبضے سے آزاد کروایا۔ اسی واقعے نے اس تاریخ کو قومی چراغ اور آزادی کے نشان کے طور پر قائم کیا اور بعد ازاں اسے مسلح افواج کے قومی دن کے طور پر اختیار کیا گیا۔موجودہ دور میں رومانیائی مسلح افواج کا کردار صرف تاریخی یادداشت تک محدود نہیں رہا۔ نیٹو اور یورپی یونین کے رکن کے طور پر ان کی شمولیت نے نہ صرف بین الاقوامی آپریشنز اور مشنز میں کردار کو اجاگر کیا بلکہ مشترکہ افواج کے ساتھ انٹرآپریبلٹی اور تعاون میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ خدمات ملک کی عسکری ساکھ اور علاقائی شراکت داری کی قوت میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔رومانیائی عوام اپنی مسلح افواج کو ریاست کا ایک معتبر ستون سمجھتے ہیں جو ملکی سالمیت، خودمختاری اور دفاع کا ضامن ہے۔ اس اعتماد نے دن کی قبولیت کو وسیع تر بنادیا ہے اور پچیس اکتوبر اب سرکاری اور عوامی تقریبات، یادگاری اجتماعات اور شہداء کو خراجِ عقیدت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ موقع صرف فوجی تقاریب تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر طبقۂ فکر میں مشترکہ احترام اور قومی یکجہتی کی علامت بن جاتا ہے۔ پچیس اکتوبر کے دن قوم اپنے شہداء کو یاد کرتی ہے اور مستقبل میں ملکی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے عہد کو تازہ کرتی ہے۔
