گلبرگ گرین میں منعقدہ فکری نشست میں رائزنگ پاکستان موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کی جدوجہد پر بات چیت کی۔ شرکاء نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کشمیری عوام جو جدوجہد کر رہے ہیں وہ اس وقت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور یہ مرحلہ کامیابی کے قریب محسوس ہوتا ہے۔رائزنگ پاکستان موومنٹ کی ڈپٹی چیف آرگنائزر رخشندہ تسنیم نے کہا کہ تنظیم آغاز سے ہی کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آج بھی یکجہتی کشمیر کے جذبے کے ساتھ ان کے موقف کا اعادہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں میں پائی جانے والی بے یقینی اور کشمکش کو سمجھے بغیر کوئی نتیجہ خیز رہنمائی ممکن نہیں۔سیکریٹری اطلاعات صائمہ اے بھٹی اور رکن حسنہ خٹک کے علاوہ جلسه میں کشمیری رہنما محمد بشیر راجہ اور سول سوسائٹی کے متعدد نمائندہ موجود تھے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کشمیر کے بارے میں ہر فیصلہ میں کشمیری عوام کو شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے اور ان کے جزبات کو مدنظر رکھا جائے۔محمد بشیر راجہ نے کہا کہ کشمیری عوام کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک کسی بھی متعلقہ فیصلے میں کشمیری عوام کی براہِ راست شرکت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو تسلیم کرنا چاہیے کہ کسی قوم کا حقِ خودارادیت ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے، نہ کہ کسی بیرونی طاقت کی حمایت کے ذریعے مسائل کو طول دینا۔تقریب کے دوران شرکاء نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ شرکاء نے یکجہتی کشمیر کے جذبے کو مضبوط رکھتے ہوئے نوجوانوں کی رہنمائی اور کشمیری عوام کی شمولیت کو بنیادی ترجیح قرار دیا۔

ماشاءاللہ زبردست پروگرام ہے پر ابھی مزید محنت کرنی پڑے گی