ریسٹورانٹ صنعت بحران کا شکار

newsdesk
4 Min Read
راولپنڈی میں ریسٹورانٹ ایسوسی ایشن نے ٹیکس اور پابندیوں کی وجہ سے صنعت پر پڑنے والے شدید اثرات پر خبردار کرتے ہوئے رات بارہ بجے تک ڈائن اِن کھولنے کا مطالبہ کیا۔

راولپنڈی میں ریسٹورانٹ کی صنعت کو حالیہ اقتصادی مشکلات، فروش پر عائد سخت محصولات اور سرکاری پابندیوں نے شدید متاثر کیا ہے، اس خدشے کا اظہار مقامی ایسوسی ایشن کے مرکزی اجلاس میں کیا گیا۔ مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد نعیم نے کی، جس میں چیئرمین ممتاز احمد اور صدر چوہدری محمد فاروق سمیت متعدد اراکین نے شرکت کی۔

صدر چوہدری محمد فاروق نے بتایا کہ تقریباً ۸۰ فیصد کاروبار متاثر ہو چکے ہیں اور کم آمدنی، بڑھتی لاگت اور محصولات کے کڑے تقاضوں نے کاروباری ماحول کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ روزگار بچانے کے لیے رات بارہ بجے تک اندر بیٹھ کر کھانے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ ریسٹورانٹ صنعت کو سانس لینے کا موقع ملے۔

سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد نعیم اور چیئرمین ممتاز احمد نے بھی رات دس بجے بند کرنے کی موجودہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی پابندیاں کاروباری سرگرمیوں کو بے حد نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اراکین نے چھاپوں کی وجہ سے درپیش مسائل کی نشاندہی کی اور غیر ضروری خلل سے بچنے کے لیے بہتر ہم آہنگی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں زاہد محمود، امتیاز احمد، علی محمد، سردار اعجاز ولایات، شیخ منیر، شیخ عرفان، حذیفہ انصار، نسیم خان، ندیم عالم کیانی، حاجی عبد اللہ، حاجی عبدالوہید، سردار محمود حسین، فیضان زاہد، نوید عباسی، شاکر شریف، چوہدری شرافت، محمد حفیظ اور دیگر اراکین نے شرکت کی اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔ اراکین نے کہا کہ بہتر رابطہ کاری اور اطلاعاتی بہاؤ سے غیر ضروری انتظامی کاروائیوں کو روکا جا سکتا ہے۔

ممتاز احمد نے اتحاد، ڈسپلن اور قانونی طریقے سے روزی کمانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی یکجہتی کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔ صدر چوہدری محمد فاروق نے شکایات کو مروجہ انداز میں اٹھانے، متعلقہ حکام تک براہِ راست پہنچانے اور تاجربرادریوں سے مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت دیکھی۔

اجلاس میں آئندہ سرگرمیوں کا اعلان بھی کیا گیا جس میں معرکہِ حق کی مہم کے تحت ۹ اور ۱۰ مئی کو پروگرامز منعقد کیے جائیں گے جبکہ ۵ جون کو عالمی یومِ خوراک اور ۷ جون کو یومِ ماحولیات کی مناسبت سے خصوصی پروگرامز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اراکین کو ہدایت دی گئی کہ وہ شعوری بینرز کم از کم دس عدد نصب کریں اور خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے مشترکہ اپروچ اختیار کریں۔

شرکاء نے ضلع سطح کے منتظمین کو اگلے اجلاس میں مدعو کرنے اور اعلیٰ حکام سے براہِ راست رابطہ کرنے کی حکمتِ عملی کی توثیق کی تاکہ ریسٹورانٹ صنعت کے مسائل کا حل بروقت ممکن بنایا جا سکے۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری عملی اقدامات، ریلیف پیکج یا پالیسی نظرثانی کا مطالبہ دہرایا تاکہ خوردونوش کے شعبے کے ہزاروں چھوٹے اور درمیانے کاروبار زبردست نقصان سے بچ سکیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے