گجرات میں حالیہ شدید سیلاب نے ہزاروں ایکڑ رقبہ زیر آب کر دیا، سینکڑوں مویشی بہہ گئے، فصلیں تباہ ہوئیں اور متعدد مکانات و دکانیں منہدم ہو گئیں، لیکن اس بار جانی نقصان معمولی رہا، جس کا سہرا ریسکیو 1122 کی بروقت اور مسلسل کارکردگی کو دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گجرات میں ریسکیو 1122 کی بہترین خدمات پر اہلکاروں کو سراہا اور ان کے بروقت ردعمل کو قیمتی انسانی جانوں کے بچاؤ کی وجہ قرار دیا۔
سیلابی پانی نے شاہبازپور سے کوٹ نکہ، محمود آباد اور ملحقہ دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس تباہی کے دوران، ریسکیو 1122 کے اہلکار کشتیوں، بھاری گاڑیوں اور ایمبولینسوں کے ہمراہ پانی بڑھنے کے باوجود متاثرہ گاؤں پہنچتے رہے۔ اہلکار چھتوں سے فریاد کرتے افراد، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے۔ کئی دیہات میں مقامی نوجوانوں نے بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، رسے باندھے، کشتیاں چلائیں اور لوگوں کو کندھوں پر اٹھا کر محفوظ مقامات تک پہنچایا۔
ریسکیو 1122 گجرات کے ڈسٹرکٹ انچارج عمر اکبر گھمن کے مطابق، پورے ضلع میں مکمل ہنگامی صورتحال رہی اور ہر ایک کال ایمرجنسی کی حامل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 19 خصوصی ریسکیو گاڑیاں کشتیوں سمیت اور دو درجن دیگر گاڑیاں بلا تعطل متاثرہ علاقوں میں تعینات رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات کے باوجود ان کی کسی ٹیم نے پیچھے ہٹنے کا سوچا بھی نہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق بھی ریسکیو 1122 کے اہلکار سب سے پہلے سیلابی پانی میں پھنسے افراد تک پہنچے۔ محمود آباد میں کلینک کے زیر آب آنے پر ریسکیو ٹیموں نے خواتین اور بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر پہنچایا۔ شاہبازپور میں بند ٹوٹنے سے چند گھنٹوں میں چھ دیہات ڈوب گئے، جہاں درجنوں افراد ریسکیو کی مدد سے چھتوں سے نکالے گئے۔ ایک رہائشی محمد یونس کے مطابق، اگر ریسکیو 1122 بروقت نہ پہنچتا تو کئی خاندان جاں بحق ہو سکتے تھے۔
ایک اور دیہاتی نے بتایا کہ اس کے مویشی تو بہہ گئے مگر اس کا خاندان ریسکیو اہلکاروں کی بدولت محفوظ رہا۔ اس نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومتی افسران غائب تھے اور صرف ریسکیو ٹیمیں ہی مسلسل سرگرم رہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے نوجوانوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے خوراک اور مدد فراہم کی۔
سیلاب کی تباہکاری کے بعد اب گجرات کے لوگ اپنے مالی نقصانات کا حساب لگا رہے ہیں، مگر ایک بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ریسکیو 1122 کی بروقت مداخلت نہ ہوتی تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
