راولپنڈی میں پانی کی طویل بندش پر شہریوں کا احتجاج

newsdesk
3 Min Read
یوسی 31 کے رہائشی ایک ہفتے سے جاری پانی کی بندش کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور واسا منیجنگ ڈائریکٹر کی معطلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

راولپنڈی میں پانی کی بندش پر واسا کے خلاف احتجاج، ایم ڈی کی معطلی کا مطالبہ

راولپنڈی: یونین کونسل 31 محلہ محمود علی شاہ کے مکینوں نے پانی کی مسلسل بندش کے خلاف واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کرنے اور ایم ڈی واسا کی معطلی کا مطالبہ کیا۔

اہلیانِ علاقہ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے پانی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہے، جس کی بنیادی وجہ ٹیوب ویل کی موٹر کا جل جانا بتائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ واسا کی جانب سے نصب کی جانے والی غیر معیاری موٹریں بار بار خراب ہو رہی ہیں، جس کے باعث علاقے کے مکینوں کو شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے۔

مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ باقاعدگی سے پانی کے بل وصول کیے جا رہے ہیں، تاہم فراہمی میں تسلسل نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واسا کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر معیاری آلات کے استعمال کے باعث شہر بھر میں اسی نوعیت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سٹیزن ایکشن کمیٹی ظہیر احمد اعوان نے کہا کہ راولپنڈی کے شہری واسا کی مبینہ نااہلی اور کمزور کارکردگی کے باعث بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ منتخب نمائندے بھی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کی درجنوں یونین کونسلوں میں ٹیوب ویل کی موٹریں جلنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ غیر معیاری سامان کی تنصیب ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ واسا کے ایم ڈی اور متعلقہ افسران کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی گئی ہے اور ہر یونین کونسل میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ذمہ دار افسران کو معطل کر کے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔

اہلیانِ علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے، پانی کی سپلائی بحال کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

TAGGED:
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے