صبرو کے قتل کی شدید مذمت اور انصاف کا مطالبہ

newsdesk
2 Min Read
مولانا اسداللہ حقانی نے جامشورو سے اغوا کے بعد صبرو کی لاش ملنے پر فوری مقدمہ درج اور شفاف تفتیش کا مطالبہ کیا۔

جامشورو میں اغوا کے بعد خاتون کا قتل، وزیراعلیٰ سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

راولپنڈی: پاکستان قبائل موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا اسد اللہ حقانی نے جامشورو کے علاقے محمد کوسوں گوٹھ سے دس روز قبل اغوا ہونے والی خاتون صبرو زوجہ بابر علی پٹھان کی لاش ملنے کے اندوہناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، اخلاقیات اور ریاستی ذمہ داریوں پر بدنما دھبہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صبرو چار بچوں کی ماں اور حاملہ تھیں، جو گھر گھر کپڑے فروخت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہی تھیں۔ ان کے ساتھ کئی روز تک مبینہ زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا جانا ایک سنگین جرم اور معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

مولانا اسد اللہ حقانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دل خراش واقعے کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہ کیا جانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، جو مظلوم خاندان کے عدم تحفظ اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، بلا تاخیر مقدمہ درج کر کے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور اس گھناونے جرم میں ملوث عناصر کو کسی سیاسی یا سماجی دباؤ کے بغیر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان قبائل موومنٹ متاثرہ خاندان کے س

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے