شہری ذرائع کے مطابق صبح سویرے مری روڈ راولپنڈی پر ایک ہونڈا سٹی گاڑی انتہائی تیز رفتاری سے مرکزی ڈیوائیڈر پار کر کے مخالف سمت کی طرف آتی ہوئی متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دو موٹر سائیکل سوار موقع پر جاں بحق اور متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت محمد زہیب اور رضوان علی کے ناموں سے ہوئی جو روزانہ اجرت پر ایک وفاقی ادارے سے منسلک کیفیٹیریا میں کام کرتے تھے۔متوفیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دونوں مرد گھر کے واحد کفیل تھے اور روزانہ کمائی کے لیے صبح نکلے تھے مگر دوبارہ لوٹ کر واپس نہ آئے، ان کے پیچھے بچے اور انحصار کرنے والے رشتہ دار رہ گئے ہیں۔ اہل خانہ نے ابتدائی رپورٹ اور موقعے کی ہنگامی کاروائی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔قریبین کا الزام ہے کہ حادثہ کے فوراً بعد خاتون ڈرائیور موقع پر موجود تھی مگر اسے روکا نہیں گیا، نہ ہی ابتدائی مراحل میں حراست میں لیا گیا اور نہ ہی پولیس رپورٹ میں اس کا نام شامل کیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے لاشیں لواحقین کے حوالے کر کے تدفین کے لیے کہا جبکہ قانونی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں، خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ خاتون ڈرائیور نے ضمانت حاصل کی اور چند دن بعد پولیس اسٹیشن پہنچی مگر ڈرائیونگ لائسنس پیش نہ کر سکی۔ اہل خانہ نے ٹریفک وارڈن اور نجی سیکیورٹی اہلکار کی مبینہ معاونت کی نشاندہی کی جس کی شفاف تفتیش نہ ہونے کا الزام بھی لگایا گیا۔ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق گاڑی ڈیوائیڈر عبور کر کے مخالف سمت کی گاڑی سے ٹکرائی اور اس کے بعد دو موٹر سائیکل سوار ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ رپورٹ میں ٹکر کو تیز رفتار اور ظلمدارانہ ڈرائیونگ سے قرار دیا گیا مگر رجسٹریشن کے وقت ڈرائیور کو نامعلوم درج کیا گیا تھا، جس پر مقتولین کے وکیل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔قانونی نمائندے نے بتایا کہ تحقیقات کے اہم مراحل میں شکوک پائے جاتے ہیں، جن میں مشتبہ ڈرائیور کو فوراً حراست میں نہ لینا، لائسنس کی فوری جانچ نہ کرنا، فوجداری ٹیسٹس کا نفاذ نہ ہونا اور فرار کے حالات کا باقاعدہ ریکارڈ نہ بنانا شامل ہیں، جنہیں انہوں نے جُرم قرار دیا اور کہا کہ ابتدائی کمزور تفتیش مضبوط مقدمہ چلانے کے راستے بند کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال اہل خانہ میں پولیس انتظامیہ کے خلاف بداعتمادی پیدا کر رہی ہے اور وہ وزیرِاعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس اور راولپنڈی کے سینئر پولیس حکام سے شفاف ازسرِنو تفتیش اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔اہل خانہ اور قانونی مشیر نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد بشمول وہ لوگ جو خاتون ڈرائیور کو فرار کروانے میں معاون رہے، تحقیقات میں شامل کیے جائیں اور شفافیت کے ساتھ مقدمہ چلایا جائے تاکہ انصاف ممکن ہو سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات میں پولیس کی شفاف کاروائی کا معیار برقرار رہے۔ پولیس لاپرواہی کے الزامات نے اس واقعے کو سماجی اور قانونی دونوں حوالوں سے اہم بنا دیا ہے اور مقامی برادری فوری جواب اور حساب کتاب کا انتظار کر رہی ہے۔
