رفاہ یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں وفاقی وزیر کا خطاب

newsdesk
3 Min Read
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے رفاہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں فارغ التحصیل طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے تعلیم و کردار سازی پر زور دیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے رفاہ یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور فارغ التحصیل طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو دلی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ڈگری کسی منزل کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے اور نوجوانوں کو سمت، اعتماد اور مواقع فراہم کرنا قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نسل ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔سردار محمد یوسف نے اس عہد کا تکرار کیا کہ یونیورسٹیوں کا بنیادی کام نوجوان نسل کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور اخلاقی اقدار پر بھی توجہ دینا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور تحقیق وہ راستہ ہیں جن کے ذریعے ہم ترقی کر سکتے اور دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔رفاہ یونیورسٹی کے تعلیمی پروگراموں پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آج گلوبلائزیشن کا دور ہے اور جامعات کو اپنے نصاب کو مقامی مسائل تک محدود رکھنے کے بجائے بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ اسی تناظر میں انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ایکسچینج پروگرامز کے تحت سو سے زائد فلسطینی طلبہ نے پاکستانی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اکیلے اعلیٰ تعلیم کے تمام تقاضے پورے نہیں کر سکتی، اس لیے نجی شعبہ کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہیومن کیپٹل کی تربیت ممکن بن سکے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مضبوط اخلاقی اقدار کا فروغ بھی لازمی ہے تاکہ نوجوان ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کا وقت آرام کا نہیں بلکہ ملک کی ترقی کے لیے صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ہے اور جو فخر آج طلبہ کو ہے وہی فخر والدین اور اساتذہ کو بھی حاصل ہے جنہوں نے ان کی کامیابی میں بڑا حصہ ڈالا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے