نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں پختون اسٹوڈنٹس کونسل قائداعظم یونیورسٹی کے چیئرمین انعام ترین نے کہا کہ ہاسٹل اور رہائش کی سہولت طلبہ کا لازمی حق ہے اور حکومت فوری طور پر یونیورسٹی کو نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے لیے فنڈ فراہم کرے۔ وہ اپنے نائب صدور داد اللہ، فاطمہ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اِن مطالبات کا اعادہ کر رہے تھے۔چیئرمین نے بتایا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد تقریباً ۱۴۰۰۰ ہے جبکہ ہاسٹل کی سہولت محض ۱۵۰۰ طلبہ تک محدود ہے، اس وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ یونیورسٹی کے اطراف کی کچی آبادیوں اور کرایہ کے غیر معیاری رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔ ایسے حالات میں مناسب رہائشی سہولت کا فقدان تعلیمی اور معاشی دونوں سطحوں پر مسائل پیدا کر رہا ہے۔انعام ترین نے کہا کہ ۸ جنوری کو سی ڈی اے اور انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو دو روز میں مکانات خالی کرنے کے نوٹس دیے گئے ہیں، جب کہ یونیورسٹی میں سالانہ امتحانات جاری ہیں اور طلبہ امتحان کی تیاری میں مصروف ہیں۔ طلبہ کا خدشہ ہے کہ فوری گھر خالی کرنے کے نوٹس ان کے تعلیمی مفاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور رہائش کے فقدان سے شدید پریشانی پیدا ہو گی۔پختون اسٹوڈنٹس کونسل کا موقف ہے کہ سی ڈی اے اور انتظامیہ کے پاس اس صورتحال کا کوئی متبادل حل موجود نہیں ہے، اس لئے تنظیم نے احتجاج اور ہڑتال کا راستہ اختیار کیا ہے اور یونیورسٹی میں دو روز سے ہڑتال جاری ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ مطالبات پورے ہونے تک یہ احتجاج جاری رہے گا اور دیگر وفاقی و طلبائی تنظیمیں بھی اس احتجاج میں شامل ہو سکتی ہیں۔چیئرمین نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی کے وی سی نے متعلقہ حکام کو نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز کی فراہمی کے لیے مراسلات بھی کیے ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی بنیادی ضرورت یعنی رہائش کا مسئلہ حل کیے بغیر تدریسی سرگرمیوں کی بحالی ممکن نہیں۔پختون اسٹوڈنٹس کونسل نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بروقت فیصلہ کر کے یونیورسٹی کو مالی امداد دیں تاکہ فوری طور پر طلبہ کو مناسب رہائش فراہم کی جا سکے اور ہڑتال ختم ہو کر تعلیمی معمولات بحال ہوں۔
قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل بحران کا شکار
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
