پنجاب میں شفاف و منظم امتحانی نظام کا آغاز

newsdesk
3 Min Read
بورڈ راولپنڈی کے تحت نہم سالانہ امتحان ٢٠٢٦ میں زیرو ٹالرنس کے ساتھ شفاف امتحانی نظام اور مضبوط نگرانی کو یقینی بنایا گیا۔

نہم سالانہ امتحانات ٢٠٢٦ کے انعقاد کے دوران شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ صوبائی قیادت کی ہدایات کے مطابق زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل در آمد کو فوقیت دی گئی اور ضلعی انتظامیہ، پولیس اور تعلیمی بورڈ کے درمیان مضبوط رابطے کے ذریعے امتحانی عمل کو پرسکون اور منظم رکھا گیا۔کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی کی نگرانی میں تمام مراکز پر فول پروف سکیورٹی انتظامات قائم کیے گئے جبکہ عملے کی ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے عملہ امتحانی ضوابط کی پاسداری میں مؤثر ثابت ہوا۔ شفاف امتحانی نظام کے نفاذ کے لیے سیٹنگ پلان، عملے کی حاضری اور امتحانی نظم و ضبط کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ڈاکٹر صائمہ انور نے مختلف امتحانی مراکز کے دورے کیے اور طلبہ کو سازگار ماحول فراہم کرنے، سہولیات کی دستیابی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے عملدرآمد کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دوروں کے دوران متعلقہ عملے کو واضح ہدایات جاری کی گئیں اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی صورت میں فوری کارروائی کے اقدامات طے کیے گئے۔تنوی‌ر اصغر اعوان نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اراضی، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بکھڑال کلرسیداں، گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فاروویمن بلکسر، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بلکسر اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر۱ تلہ گنگ سمیت متعدد مراکز کا جائزہ لیا اور امتحانی ایس او پیز کے نفاذ کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ ہر مرکز میں نشستوں کے منصوبے، سکیورٹی انتظامات اور عملے کی حاضری کی توثیق کی گئی۔حساس امتحانی مراکز کی خصوصی نگرانی اور مسلسل انسپکشن کے نظام کو فعال رکھا گیا ہے تاکہ شفاف امتحانی نظام کی خلاف ورزی فوری طور پر شناخت ہو اور بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ امتحانی عمل کی مسلسل نگرانی کے لیے مرکزی کنٹرول مرکز سے بروقت ڈیجیٹل نگرانی بھی عمل میں لائی گئی جس سے انتظامی عمل میں شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوا۔بورڈ انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مراکز میں جاری ہدایات پر مکمل عملدرآمد لازمی ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کی اطلاع ملتے ہی فوری تفتیش اور کارروائی کی جائے گی۔ اس مربوط نگرانی اور نظم و ضبط کے باعث شفاف امتحانی نظام کو کامیابی سے نافذ کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے اور امتحانی عمل کو میرٹ اور شفافیت کے معیار پر برقرار رکھنے کے مؤثر اقدامات تسلیم کیے جا رہے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے