پنجاب میں اتائیت کے ۹۹۸ غیرقانونی مراکز سیل

newsdesk
3 Min Read
پی ایچ سی نے چھ ہفتوں میں ۹۹۸ غیرقانونی اتائیت مراکز سیل کیے، ۳۸۶۰ معائنوں میں ۲۲۸۶ مراکز کی نگرانی جاری رکھی گئی

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے گزشتہ چھ ہفتوں میں صوبہ بھر میں اتائیوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ۹۹۸ غیرقانونی اتائیت مراکز سیل کروا دیے ہیں۔ انسدادِ اتائیت ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق کمیشن کی انفورسمنٹ ٹیموں نے مشتبہ اتائیوں کے ۳۸۶۰ مراکز پر چھاپے مارے جن میں سے ۲۲۸۶ مراکز کو مستقل نگرانی کے لیے نشان زد کیا گیا جبکہ ۳۴۶ مراکز بند، کسی اور جگہ منتقل یا دیگر کاروبار میں تبدیل پائے گئے۔یہ کارروائیاں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں انجام پائیں اور کمیشن نے کہا ہے کہ نشاندہی شدہ اتائیت مراکز کی باقاعدہ دوبارہ جانچ جاری رکھی جائے گی تاکہ غیر مجاز طبی عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکے۔ اتائیت مراکز کی نگرانی کا مقصد عوام کو غیر محفوظ علاج سے محفوظ رکھنا اور صرف مستند اور رجسٹرڈ طبی ماہرین کو خدمات کی اجازت دینا ہے۔ضلعی سطح پر کارروائیوں میں لاہور میں سب سے زیادہ کاروائیاں ہوئیں جہاں ۶۴۵ مراکز کا معائنہ کیا گیا اور ۲۱۷ کو سیل کیا گیا۔ فیصل آباد میں ۲۳۹ دوروں کے نتیجے میں ۶۲ مراکز بند کیے گئے جبکہ خانیوال میں ۱۵۵ وزٹس کے بعد ۵۲ مراکز بند ہوئے۔ نمایاں آپریشنز کے دوران شیخوپورہ میں ۴۸، قصور ۴۷، ملتان ۴۶، راولپنڈی ۳۹، گوجرانوالہ ۳۷، بہاولپور ۳۶، پاکپتن اور سرگودھا ہر ایک میں ۳۰ اور سیالکوٹ میں ۳۳ غیر قانونی مراکز سیل کیے گئے۔مزید برآں متعدد اضلاع جن میں اٹک، بھاولنگر، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، نارووال، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راجن پور، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور وہاڑی شامل ہیں میں بھی سیل اور نگرانی کی کارروائیاں رپورٹ ہوگئیں تاکہ اتائیت مراکز کا نیٹ ورک ختم کیا جا سکے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایچ سی ڈاکٹر محمد ثاقب عزیز نے کہا کہ یہ اقدامات اتائیت کے خاتمے اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے کمیشن کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نشاندہی شدہ مراکز کا دوبارہ معائنہ کیا جائے گا تاکہ اتائی دوبارہ غیر قانونی پریکٹس شروع نہ کر سکے اور وہاں صرف رجسٹرڈ معالجین ہی خدمات فراہم کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن قانون پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے گا اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں اپنے انضباطی اقدامات جاری رکھے گا۔کمیشن کی اپیل ہے کہ شہری صرف پی ایچ سی کے رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ علاجگاہوں کا انتخاب کریں اور جہاں بھی اتائی ہونے کا شبہ ہو فوری طور پر مطلع کریں تاکہ اتائیت مراکز جلد از جلد بند کیے جائیں اور مریضوں کو محفوظ علاج فراہم کیا جا سکے۔کمیشن نے بتایا کہ مجموعی طور پر اب تک ۲۴۶۵۲۹ معائنے کیے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں ۶۹۰۴۵ غیرقانونی مراکز سیل کیے گئے جبکہ ۳۰۶۰۰ سے زائد اتائی اپنا غیرقانونی دھندا چھوڑ چکے ہیں، اور یہ مہم اسی جوش و خروش سے جاری رہے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے