پارلیمانی کمیٹی برائے حقوقِ انسان نے جارنوالہ واقعے کی تفصیلی جانچ پڑتال کی اور معاملے کی سنگینی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کی اطلاع کے مطابق سپریم کورٹ کی رپورٹ میں اس واقعے سے متعلق ابتدا میں پانچ ہزار سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا جبکہ اب تک صرف ۳۸۲ ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ یہ تفاوت کمیٹی کے ارکان کے لیے باعثِ سوال رہا اور اس نے تفتیش کے طریقۂ کار، مجرموں کے تعین اور فوری احتساب کے عمل کی رفتار پر خدشات کا اظہار کیا۔کمیٹی کی صدارت سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کی اور اجلاس پارلیمنٹ لاجز کے پرانے ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جارنوالہ واقعہ کے بعد متاثرہ مسیحی برادری کے گھروں، عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچا جس کے باعث بے گھری، خوف اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی فراہمی میں تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی اور سابق وزیرِ اعظم کے معاوضے کے اعلان پر عملدرآمد کا فوری جائزہ لیا جائے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی مکمل رپورٹ اگلی میٹنگ میں کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے تاکہ معاملے کی رسیدگی کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہو۔ ارکان نے اسپیشل برانچ کی رپورٹ بھی طلب کی کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اس میں پولیس کی ممکنہ غفلت اور انتظامی ناکامی کے متعلق اہم حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ اس طرح کی معلومات تفتیش کی شفافیت اور مستقبل میں احتساب کے عمل کے لیے ضروری سمجھی گئی۔اجلاس میں یہ بات دہراتی گئی کہ جارنوالہ واقعہ صرف ایک معمولی قانون و نظم کا واقعہ نہیں بلکہ ایک حساس اقلیتی حقوق کا معاملہ ہے جس نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ارکان نے کہا کہ اگر پولیس کی لاپروائی یا انتظامی کوتاہی نے کشیدگی میں اضافہ کیا تو ذمہ دار افسران کی نشان دہی اور مناسب کارروائی لازمی ہے۔ اسی تناظر میں کمیٹی نے واضح کیا کہ صرف گرفتاریاں کافی نہیں بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ تشدد کو روکنے میں کہاں خامیاں رہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردِعمل کس نوعیت کا تھا۔کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جرم کی شفاف عدالتی کارروائی، معاوضے کی صورتحال اور مجرمان کے خلاف قانونی کاروائی کا مفصل ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ جارنوالہ واقعہ کو حقوقِ انسان کے اہم معاملے کے طور پر تسلیم کیا گیا اور پارلیمانی نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور معاشرتی ہم آہنگی بحال رہے۔ جارنوالہ واقعہ کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں سپریم کورٹ کی رپورٹ اور اسپیشل برانچ کے ریکارڈ کی روشنی میں مزید تفصیلی کارروائی کی توقع ہے۔
