پاکستان میں تمباکو نوشی پر مؤثر کنٹرول ایک ناگزیر عوامی صحت کی ضرورت ہے: اسپارک

newsdesk
5 Min Read
عالمی یومِ عدم تمباکو پر ماہرین نے پاکستان میں تمباکو کنٹرول، نکوٹین مصنوعات کے ضابطے اور بچوں کی حفاظت کی فوری ضرورت پر زور دیا

پاکستان میں تمباکو نوشی پر مؤثر کنٹرول ایک ناگزیر عوامی صحت کی ضرورت ہے: اسپارک

اسلام آباد، 31 مئی 2026: عالمی یومِ انسدادِ تمباکو 2026 کے موقع پر سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) نے پاکستان میں تمباکو نوشی کے تدارک کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے، ابھرتی ہوئی نکوٹین مصنوعات کے مؤثر ضابطہ کار کو بہتر بنانے اور بچوں و نوجوانوں کو تمباکو کی لت سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کا موضوع "کشش کا پردہ فاش کرنا: نکوٹین اور تمباکو کی لت کا مقابلہ” ہے، جو تمباکو صنعت کی ان حکمتِ عملیوں کو اجاگر کرتا ہے جن کے ذریعے نئے صارفین کو راغب کیا جاتا ہے۔ ان میں ذائقہ دار مصنوعات، گمراہ کن تشہیر، دلکش پیکجنگ اور ای سگریٹس، ہیٹڈ ٹوبیکو پروڈکٹس اور نکوٹین پاؤچز جیسی نئی نکوٹین مصنوعات کا فروغ شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی جان لیتا ہے، جن میں تقریباً 13 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے مگر بالواسطہ دھوئیں (Second-hand Smoke) کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں تمباکو کا استعمال سالانہ 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، جو روزانہ 526 سے زیادہ اموات کے برابر ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں 6 سے 15 سال عمر کے تقریباً 1,200 بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جس سے ایک نئی نسل عمر بھر کی نکوٹین کی لت اور سنگین صحت کے خطرات سے دوچار ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ تمباکو نوشی نہ صرف ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔ پاکستان کو تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج، پیداواری صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات کی وجہ سے سالانہ تقریباً 1,835 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ نقصانات تمباکو سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن سے کہیں زیادہ ہیں اور قومی ترقی کے لیے مختص قیمتی وسائل کو متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی ادارۂ صحت کے فریم ورک کنونشن برائے انسدادِ تمباکو (FCTC) کی توثیق کر رکھی ہے اور MPOWER اقدامات کے نفاذ کے ذریعے اہم پیش رفت کی ہے، جن میں دھواں سے پاک مقامات کے قوانین، تمباکو کی تشہیر پر پابندیاں، کم عمر افراد کو فروخت کی ممانعت، تصویری صحتی انتباہات اور تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافہ شامل ہیں۔ تاہم، ان قوانین کے مؤثر نفاذ اور ضابطہ کاری کے حوالے سے ابھی بھی نمایاں خلا موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ تمباکو مصنوعات کی استطاعت کم کرنے کے لیے ان پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے، تصویری صحتی انتباہات کو بین الاقوامی بہترین معیار کے مطابق مزید مؤثر بنایا جائے، تمباکو کی تشہیر، فروغ اور سرپرستی (TAPS) پر عائد پابندیوں کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے، اور ابھرتی ہوئی نکوٹین و تمباکو مصنوعات کے لیے جامع ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ڈاکٹر خلیل احمد نے مزید کہا:

"عالمی یومِ انسدادِ تمباکو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تمباکو کی لت آج بھی لاکھوں پاکستانیوں، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں، کی صحت، فلاح و بہبود اور مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اگرچہ پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں اہم پیش رفت کی ہے، تاہم تمباکو صنعت کی جارحانہ حکمتِ عملیوں اور نئی نکوٹین مصنوعات کی بڑھتی ہوئی دستیابی سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ تمباکو پر مؤثر ٹیکس پالیسی، جامع تشہیری پابندیوں کے نفاذ، تمام نکوٹین مصنوعات کی مناسب ضابطہ کاری اور پائیدار تمباکو کنٹرول پروگراموں میں سرمایہ کاری عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ بچوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنا نہ صرف صحتِ عامہ کی ذمہ داری ہے بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری بھی ہے۔”

انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ سرکاری ادارے، پارلیمنٹیرینز، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، اساتذہ، سول سوسائٹی تنظیمیں، والدین اور میڈیا تمباکو سے پاک ماحول کے فروغ اور آنے والی نسلوں کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے