پاکستانی محقق کی گردوں کے امراض پر تحقیق عالمی سطح پر تسلیم
پی ایچ ڈی اسکالر نے میگدی یعقوب گولڈ میڈل اور اول انعام حاصل کر لیا
اسلام آباد: شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (SZABMU) اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بایولوجی اینڈ ہیومن جینیٹکس سے تعلق رکھنے والے ایک پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر نے گردوں کے دائمی امراض پر غیر معمولی تحقیق کے اعتراف میں میگدی یعقوب گولڈ میڈل اور فرسٹ پرائز حاصل کر لیا ہے۔ یہ تحقیق پاک ایمریٹس ملٹری ہسپتال (PEMH) راولپنڈی، آرمڈ فورسز بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر راولپنڈی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) راولپنڈی کے اشتراک سے کی گئی، جبکہ تحقیق کی نگرانی ڈاکٹر محسن شہزاد نے کی۔
ایوارڈ یافتہ تحقیق جس کا عنوان
“پاکستانی آبادی میں دائمی گردوں کے امراض کا جینیاتی اور طبی تجزیہ”
ہے، میں CLDN16، MYO1E، FAM133A اور COL4A4 جینز میں چار نئی بائی ایللیک پیتھوجینک جینیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت پاکستان میں موروثی گردوں کے امراض کی جینیاتی بنیاد کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے اور بروقت جینیاتی اسکریننگ اور جینیاتی کونسلنگ کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
اسی ریسرچ اسکالر کو ایک اور اہم کامیابی کے طور پر “ذیابیطس سے وابستہ دائمی گردوں کے مرض میں میسینکائمل اسٹیم سیل تھراپی” کے موضوع پر کی گئی کلینیکل تحقیق پر سیکنڈ پرائز بھی دیا گیا۔ یہ تحقیق 91 مریضوں پر مشتمل ایک رینڈمائزڈ، ڈبل بلائنڈ، پلیسبو کنٹرولڈ کلینیکل ٹرائل پر مبنی تھی، جس میں ٹائپ ٹو ذیابیطس اور گردوں کے دائمی مرض کے مرحلہ دوم سے چہارم تک کے مریض شامل تھے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق مریضوں میں گردوں کی کارکردگی میں استحکام یا معمولی بہتری دیکھنے میں آئی، جبکہ HbA1c لیول میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ دورانِ تحقیق کسی بھی قسم کے مضر اثرات سامنے نہیں آئے، جو اس علاج کو محفوظ اور مؤثر ثابت کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ دونوں تحقیقی نتائج پاکستان میں گردوں کے امراض کی مالیکیولر تنوع کو نمایاں کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پریسیژن میڈیسن اور ری جنریٹو میڈیسن مستقبل میں گردوں کے امراض کی تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ادھر شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اپنے تعلیمی اور تحقیقی کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف شعبہ جات میں نئے ایم فل پروگرامز کا آغاز کر رہی ہے اور بایومیڈیکل تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دے رہی ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور پاک ایمریٹس ملٹری ہسپتال سمیت دیگر معتبر اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات جدید تحقیق، اختراعات کے فروغ اور شواہد پر مبنی طبی حل فراہم کرنے کے عزم کا عکاس ہیں، جن کے ذریعے پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
Read in Urdu: Pakistani PhD Scholar Wins Prestigious Awards for Breakthrough Kidney Disease Research
