پاکستان نیپال پارلیمانی وفود کا براہ راست پروازوں اور تعاون پر زور

newsdesk
5 Min Read

پاکستان اور نیپال کے پارلیمانی وفود کا براہ راست پروازوں اور تعاون کے فروغ پر زور

اسلام آباد میں پاکستان-نیپال اور بھوٹان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ اور نیپالی پارلیمانی وفد کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے، تجارت بڑھانے، ثقافتی روابط کو فروغ دینے اور براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی پر زور دیا گیا۔ دونوں طرف کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تاریخی تعلقات اور مشترکہ مواقع کو بروئے کار لا کر باہمی تعاون کے نئے راستے نکالے جائیں گے، خصوصاً سیاحت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں۔

ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی سربراہی میں ہونے والی اس میٹنگ میں پاکستانی اراکین پارلیمنٹ سمیت محترمہ شائستہ خان، اسفنیار بھنڈارہ، رمیش لال، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، محترمہ نکہت شکیل خان اور محترمہ شہناز سلیم ملک (ویڈیو لنک کے ذریعے) نے شرکت کی۔ نیپالی وفد کو پاکستان کی روایتی مہمان نوازی کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا گیا۔

دونوں ملکوں کے اراکین نے باہمی تعلقات اور تجارت میں حائل رکاوٹوں خصوصاً جغرافیائی فاصلے اور براہ راست سفر کی سہولت نہ ہونے پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر ملانی نے کہا کہ براہ راست فضائی رابطے کے بغیر تجارت، سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ دینا مشکل ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط کرنے اور باہمی تجارت کے محدود حجم کو بڑھانے کی تجویز دی۔ نیپالی وفد نے پاکستان سے میڈیکل آلات کی درآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا جو نیپال کے ہسپتالوں میں استعمال ہوتے ہیں، اور اسے معاشی تعاون بڑھانے کے مواقع قرار دیا۔

سیاحت اور مذہبی و ثقافتی تبادلوں پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستانی اراکین نے گندھارا، ٹیکسلا، موہنجو داڑو اور گلگت بلتستان میں واقع بدھ مت ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نیپال کے بدھ مت زائرین کے لیے یہاں سیاحت میں بڑی آسانی ہو سکتی ہے۔ نیپالی وفد نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور مذہبی مماثلتوں کو سراہا اور تعلیمی تعاون کو بڑھانے کی تجویز پیش کی۔

دونوں طرف نے اسلام آباد اور کھٹمنڈو کے درمیان پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی براہ راست پروازوں کی بحالی کو فوری ضرورت قرار دیا۔ اراکین نے کہا کہ سفری مشکلات کی وجہ سے عوام، طلبہ اور کاروباری حلقے متاثر ہو رہے ہیں، اور براہ راست پروازوں سے لوگوں کے درمیان روابط کو فروغ ملے گا۔

پاکستانی پارلیمنٹرینز نے عورتوں، نوجوانوں اور بچوں کے حقوق سے متعلق پارلیمانی گروپس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نیپال کو بھی اس سلسلے میں تعاون کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جامعات، خواتین کاروباری رہنماؤں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے درمیان روابط سے تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، غربت میں کمی اور نوجوانوں کی شمولیت کو مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے ان شعبوں میں باہمی منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی گئی۔

نیپالی وفد نے پاکستان کی گرمجوشی اور دوستانہ ماحول پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عالمی فورمز پر بھی پاکستان کی حمایت کو سراہا اور مشترکہ چیلنجز مثلاً موسمیاتی تبدیلی، خواتین کی بااختیاری اور پائیدار ترقی میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ نیپالی نمائندوں نے پاکستانی اراکین پارلیمنٹ کو نیپال کے دورے کی دعوت بھی دی۔

ملاقات مثبت امیدوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارلیمانی تبادلوں، مذہبی سیاحت اور براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی کے ذریعے پاکستان اور نیپال کے تعلقات کے مکمل پوٹینشل کا حصول ممکن بنایا جائے گا۔ دونوں ملکوں کے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس نے رابطے میں رہنے اور تجارت، ثقافت و تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا۔

 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے