پاکستان مون سون امدادی منصوبہ 2025 میں 81 لاکھ افراد کیلئے

6 Min Read

پاکستان اور اقوام متحدہ کا 1.16 ارب ڈالر کا مون سون کنٹینجنسی پلان، 81 لاکھ متاثرہ افراد کی مدد کا عزم

ندیم تنولی

پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی انسانی اداروں کے تعاون سے ایک جامع کنٹینجنسی پلان پیش کیا ہے جس کا مقصد 2025 کے مون سون سیزن کے دوران ممکنہ وسیع پیمانے پر سیلاب سے نمٹنے اور 81 لاکھ متاثرہ افراد میں سے 13 لاکھ سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو فوری امداد فراہم کرنا ہے۔ اس پلان کے ذریعے متاثرین کو خوراک، صحت، تعلیم، شیلٹر اور تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں مدد فراہم کی جائے گی۔

یہ کنٹینجنسی پلان حکومت پاکستان اور مختلف ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں سے تیار کیا گیا ہے، جس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر سیلاب آیا تو قومی ایمرجنسی ادارے بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس منصوبے کی بنیاد ماضی میں آنے والے قدرتی آفات، بالخصوص 2022 کے تباہ کن سیلاب کے تجربات پر رکھی گئی ہے، جس میں 33 ملین افراد متاثر اور تقریباً 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے اندازوں کے مطابق اگلے مون سون کے دوران خاص طور پر وسطی اور جنوبی علاقوں میں معمول سے کچھ زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ اس تناظر میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع کو سیلاب سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق قرار دیا گیا ہے، جہاں کل 1 کروڑ 60 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور تقریباً 81 لاکھ کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔

منصوبے کے تحت سب سے زیادہ رقم، یعنی تقریباً 31 ملین ڈالر خوراک اور زرعی شعبے کے لیے مختص کی گئی ہے، تاکہ 6 لاکھ افراد کو کھانے پینے کا سامان، نقد رقوم، بیج اور لائیو اسٹاک کی شکل میں مدد فراہم کی جا سکے۔ صحت کے شعبے کے لیے 20 ملین ڈالر سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے جس کا مقصد طبی سہولیات، موبائل ٹیمیں اور بیماریوں جیسے ہیضہ اور ڈینگی کی نگرانی مضبوط بنانا ہے۔

پانی و صفائی کے لیے 17 ملین ڈالر سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ تقریباً 9 لاکھ 60 ہزار افراد کو صاف پانی، ہنگامی بیت الخلا اور صفائی کٹس فراہم کی جائیں۔ تعلیم کے شعبے میں 16 ملین ڈالر سے زیادہ مختص ہیں، جس کے ذریعے 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کے لیے عارضی تعلیمی مراکز اور نفسیاتی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ شیلٹر اور غیر غذائی اشیاء کے لیے 9 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس سے 3 لاکھ 20 ہزار بے گھر افراد کو عارضی خیمے، کمبل اور مرمت کا سامان فراہم ہوگا۔

غذائیت کے منصوبوں کے لیے 10 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں جن سے 3 لاکھ 50 ہزار خواتین اور بچوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ تقریباً 5 ملین ڈالر تحفظ کے پروگراموں جیسے خواتین اور بچوں کے تحفظ، معذور افراد اور پناہ گزینوں کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی بحالی، رسد اور انتظامی رابطہ کاری کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

آفات کی صورت میں اس منصوبے کی قیادت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ادارے کریں گے، جبکہ عالمی برادری امدادی سرگرمیوں میں تعاون فراہم کرے گی۔ اس کے لیے کئی مراحل پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے، جس میں ابتدائی انتباہ، فوری طور پر ضرورت کے جائزہ گروپس کی روانگی اور بحران کی صورت میں تیز رفتار امدادی رسپانس شامل ہیں۔

اس منصوبے میں مختلف چیلنجز کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، مثلاً انفراسٹرکچر کی تباہی کے سبب امداد پہنچانے میں رکاوٹ، سرکاری منظوریوں میں تاخیر، اور خیبر پختونخوا و بلوچستان جیسے علاقوں میں سیکورٹی خدشات۔ مزید یہ کہ اگست 2025 سے اقوام متحدہ کی رابطہ کاری میں بھی کمی آنے کا خدشہ ہے جس سے صوبائی سطح پر ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ حکمتِ عملی انسانی اصولوں اور متاثرہ آبادیوں کو جوابدہ رہنے پر زور دیتی ہے۔ اس میں بے گھر خاندانوں، خواتین و بچے، بزرگ، معذور اور افغان پناہ گزینوں کو خصوصی طور پر امدادی منصوبہ بندی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔

اس جامع اور قبل از وقت پلان کے ذریعے پاکستان اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار مون سون سے پہلے تیاری اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، تاکہ کسی بھی موسمیاتی آفت کی صورت میں فوری، مؤثر اور باعزت انسانی امداد مہیا کی جا سکے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے