حکومت نے ٹیکہ کاری مضبوط رکھنے کا عزم

newsdesk
4 Min Read
جنیوا میں ملاقات میں وفاقی وزیر صحت نے قومی ویکسین پالیسی کی منظوری اور مقامی ویکسین پیداوار مضبوط کرنے کا عزم دہرایا۔

جنیوا میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر صحت نے گیوی کی انتظامی سربراہ ڈاکٹر سانیہ نشتر سے بات چیت میں ملک میں بچوں کی صحت بہتر بنانے اور قومی ویکسین پالیسی کے موثر نفاذ کو اولین ترجیح قرار دیا۔ وزیر نے گیوی کی مدد کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت منظوری شدہ پالیسی کے تحت ویکسینیشن کا دائرہ کار بڑھائے گی۔وزیر نے بتایا کہ حکومتی سطح پر قومی ویکسین پالیسی باقاعدہ طور پر منظور ہو چکی ہے اور اس کے تحت پورے ملک میں منصوبہ بند انداز میں نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔ وہ مقامی ویکسین سازی کی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے گیوی سے تکنیکی رہنمائی اور مشاورتی مدد طلب کرنے پر زور دیا۔ملاقات میں مستقبل کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو بھی اہم قرار دیا گیا اور وزیر نے کہا کہ انڈونیشیا، چین اور سعودی عرب سمیت دیگر ممبر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھا کر ویکسین کی ترقی اور مقامی پیداوار سے استفادہ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مقامی پیداوار کو تقویت دینے کے اقدامات زیرِ غور ہیں۔عوامی قبولیت اور کمیونٹی انگیجمنٹ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں محدود مواصلاتی کوششوں کی وجہ سے عنقِ رحم کے خلاف ویکسین کے ابتدائی مرحلے میں مزاحمت سامنے آئی۔ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مربوط اور مؤثر میڈیا مہمات کی ضرورت ہے اور اسی سلسلے میں وزیر نے اپنی بیٹی کو علانیہ طور پر ویکسین لگوایا، جس سے عوامی قبولیت میں نمایاں بہتری آئی اور شرح تقریباً اسی فیصد تک پہنچ گئی۔وزیر نے شراکتی اداروں میں شفافیت پر زور دیا اور کہا کہ دوسرے مرحلے میں کمیونٹی ردعمل کو مضبوط بنانے کے لیے بہتر ڈیزائن کردہ میڈیا مہمات ضروری ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے گیوی کے ساتھ شراکت میں مالی ذمہ داریوں کو مستقل طور پر پورا کرنے کی بات یاد دلائی جسے استحکام کی علامت قرار دیا گیا۔آئندہ حکمت عملی کے بارے میں وزیر نے کہا کہ گیوی کے آئندہ پروگرام کے تحت دوبارہ منصوبہ بندی کا عمل ملک کی قیادت میں مشاورتی انداز میں جاری رہے گا جس میں خاص توجہ ان بچوں تک پہنچانے پر ہو گی جو پہلی خوراک بھی نہیں لے سکے۔ اس سمت میں واضح اہداف مقرر کیے جائیں گے۔وزیر نے گیوی سے سخت جان علاقوں میں ہیکساویلن ویکسین کے پائلٹ تعارف کے لیے حمایت کی درخواست بھی کی تاکہ پینٹاویلن سے ہیکساویلن میں ممکنہ منتقلی کا تجرباتی جائزہ لیا جا سکے اور دور دراز علاقوں میں ویکسین کے اثرات پر کارروائی کی جا سکے۔ پروگراموں کے انضمام کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی اور بتایا گیا کہ پولیو مہمات اور ویکسین پروگرام کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے حوالے سے فیصلہ وسطِ سال دو ہزار ستائیس تک کیا جائے گا جبکہ کلیدی قیادی عہدے بھی مضبوط کیے جا چکے ہیں۔ڈاکٹر سانیہ نشتر نے پاکستان کو گیوی کی ترجیحی فہرست میں برقرار رکھتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور شراکت دار ملک کے طور پر پاکستان کی مالی شراکت کی تعریف کی۔ انہوں نے سخت علاقوں میں ہیکساویلن کے پائلٹ تجربے کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ گیوی پاکستان کے قومی ویکسین پروگرام کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے