۱۵ جنوری ۲۰۲۶ کو اسلام آباد اور باکو کے درمیان آن لائن اجلاس میں پاکستان اور آذربائیجان کے پارلیمانی گروپس نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس نشست میں پاکستان کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی جن کی قیادت کنوینر سید رضا علی گلانی نے کی جبکہ سحر کامران، محمد مؤین عامر پیرزادہ، نعیمہ کشور خان اور سیدہ امنہ بتول نے بھی شرکت کی۔ آذربائیجانی وفد کی سربراہی کمال الدین غفارف نے کی اور ان کے ہمراہ ارزو ناغیف، الشان موسیف، امینہ اغزادہ، جہون ممدوف اور انار ممدوف موجود تھے۔
کمال الدین غفارف نے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور بھائی چارے پر زور دیا اور پاکستان کی اصولی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطح اور پارلیمانی رابطوں کو تعلقات کی مضبوطی اور ارتقا کی علامت قرار دیا۔ اس موقع پر پاک آذربائیجان روابط کی پختگی پر خاص توجہ دی گئی۔
کنوینر سید رضا علی گلانی نے پاکستان کی جانب سے پارلیمانی اور ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے کا عزم دہرایا اور پارلیمنٹیرینز کے کردار کو تجارت، معیشت، ثقافت، تعلیم، نوجوانوں کی مشغولیت اور عوامی رابطوں کے فروغ میں مرکزی قرار دیا۔ انہوں نے باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں اور مستقل فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عملی نتائج حاصل ہوں۔
اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر قیادت حالیہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے آذربائیجان کی معاونت سے قائم کردہ آسان خدمت سینٹر کے افتتاح اور اس ماڈل پر دی جانے والی خصوصی تربیت کی تعریف کی گئی، جسے دونوں طرفہ تعلقات کی عملی مثال قرار دیا گیا۔ یہ پیش رفت پاک آذربائیجان روابط کو تقویت فراہم کرنے والی قرار پائی۔
دونوں فریقین نے تجارت، زرعی شعبے، سیاحت، تعلیم، تحقیق اور نوجوانوں کے تبادلہ پروگرامز میں تعاون کی گنجائش پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے باہمی سیکھنے، ڈائیلاگ اور پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے طویل المدتی شراکت داری کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عملی اقدامات کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
دونوں ملکوں کے سفیروں نے سفارتی رابطوں میں مثبت رفتار کی جانب اشارہ کیا اور پارلیمانی تبادلوں کے تعمیری کردار کو سراہا۔ اجلاس نے باہمی ہم آہنگی، بہتر رابطہ کاری اور باقاعدہ پارلیمانی ملاقاتوں کے ذریعے پاک آذربائیجان روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
