9 ہزار سے زائد شکایات نے اوورسیز پاکستانی مزدوروں کے استحصال کی سنگین صورتحال بے نقاب کر دی، 3,421 کیسز تاحال حل نہ ہو سکے
ندیم تنولی
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کام کرنے والے ہزاروں پاکستانی مزدور اب بھی اجرتوں کی عدم ادائیگی، استحصالی رویوں اور خراب کام کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی اقدامات اور فلاحی پروگراموں کے باوجود ہزاروں شکایات تاحال حل طلب ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی مسرت رفیق مہیسڑ نے وزیر اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی چوہدری سالک حسین سے گزشتہ تین برسوں کے دوران بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کے تحفظ اور موصول ہونے والی شکایات سے متعلق سوال کیا۔ ایوان میں پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر 9 ہزار 233 مزدور شکایات موصول ہوئیں جن میں سعودی عرب سے 5 ہزار 321، متحدہ عرب امارات سے 404، قطر سے 539، عمان سے 850، کویت سے 132، بحرین سے 1 ہزار 310 جبکہ عراق سے 677 شکایات شامل تھیں۔
حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) اور مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں (CWAs) کے ذریعے متاثرہ مزدوروں کیلئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تنخواہوں اور بقایاجات کی وصولی، حادثاتی معاوضے، وطن واپسی میں سہولت، ہنگامی امداد اور قانونی رہنمائی شامل ہے۔ ایسے کیسز جہاں ابتدائی سطح پر مسائل حل نہ ہو سکیں وہاں مزدوروں کو لیبر کورٹس تک رسائی بھی فراہم کی گئی۔ کویت میں پاکستانی سفارتخانے نے مزدور شکایات کے فوری حل کیلئے خصوصی وکیل بھی مقرر کیا۔
اجلاس کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ اسپین اور یونان میں موجود غیر دستاویزی پاکستانی مزدور شدید استحصال کا شکار ہیں۔ اگرچہ حکومت ان کی قانونی حیثیت کو ریگولرائز کرنے کی کوششیں کر رہی ہے، تاہم متعدد پاکستانی مزدور اب بھی بقایاجات کی وصولی میں تاخیر اور مقامی حکام کے عدم تعاون کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
ایوان کو بتایا گیا کہ او پی ایف نے اسلام آباد، پشاور اور لاہور ایئرپورٹس پر سہولت ڈیسک قائم کیے ہیں جبکہ نیب، پنجاب پولیس اور بورڈ آف ریونیو سمیت مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری بھی کی گئی ہے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ او پی ایف نے صحت، تعلیم اور ہوٹلنگ کے مختلف اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے ہیں تاکہ بیرون ملک پاکستانیوں اور ان کے اہل خانہ کو رعایتی سہولیات، انشورنس اور تعلیمی فوائد فراہم کیے جا سکیں۔
وزیر چوہدری سالک حسین نے اعتراف کیا کہ مختلف پروگراموں کے باوجود عملدرآمد میں خامیاں اور تاخیر ان اقدامات کی افادیت کو متاثر کر رہی ہیں، خاص طور پر کم آمدن والے مزدوروں اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والوں کیلئے۔ ارکان اسمبلی نے حکومت پر زور دیا کہ اوورسیز پاکستانی مزدوروں کی بروقت اجرتوں کی ادائیگی، قانونی تحفظ اور استحصال کے خاتمے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
Read in English: Over 9,233 Complaints by Overseas Pakistani Workers Reveal Massive Exploitation; 3,421 Cases Remain Unresolved
Copied From: Thousands of complaints reveal issues faced by overseas Pakistani workers

