راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی اور سابق صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میاں عبدالشکور نے کہا ہے کہ مزدوروں کے مسائل کا مؤثر حل اسی صورت ممکن ہے جب تنظیم مضبوط، منظم، باصلاحیت اور باکردار ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدور تحریک کی قیادت کو ذاتی، گروہی اور علاقائی مفادات سے بلند ہو کر صرف مزدور کاز کے لیے کام کرنا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے زیر اہتمام لیڈرشپ ٹریننگ پروگرام کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو مشکلات، آزمائشوں اور دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہے اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے۔
تربیتی نشست میں مزدور قیادت کی فکری، تنظیمی اور عملی صلاحیتوں میں اضافے، جدید لیڈرشپ اسکلز، تنظیم سازی، مؤثر ابلاغ، حقوق و فرائض کی ادائیگی اور پاکستان کے محنت کش طبقے کو درپیش معاشی و سماجی مسائل کے حل پر گفتگو کی گئی۔ مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مزدوروں کی خوشحالی، ان کے بچوں کی معیاری تعلیم، علاج معالجے، سماجی تحفظ اور باوقار روزگار کے لیے منظم اور مسلسل جدوجہد ناگزیر ہے۔
اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی، سیکرٹری جنرل محمد حسیب الرحمن، پی ٹی ایل کے صدر وحید حیدر شاہ، سینئر نائب صدور عاشق خان، میاں تجمل حسین، طیب اعجاز خان، صدر وسطی پنجاب محمد امین منہاس، آرگنائزنگ سیکرٹری سید عبدالعزیز شگری، سیکرٹری شمالی پنجاب نوید بنگش، ظہور شاہ پریم یونین راولپنڈی، خیبر پختونخوا کے کوآرڈینیٹر اسد علی، صدر خیبر پختونخوا وسطی جمشید منیر خان، سیکرٹری وسطی سمیع اللہ، عبدالجبار اور دیگر شریک تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پریم یونین راولپنڈی کے سید ظہور شاہ نے کہا کہ مشیر امیر جماعت اسلامی میاں عبدالشکور نے مزدور رہنماؤں کے ساتھ اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا کہ مزدور تحریک کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔ مزدور رہنماؤں نے بتایا کہ اس وقت مزدوروں کو سب سے زیادہ نجکاری کے ذریعے اداروں کو کمزور کیے جانے کا سامنا ہے، جس کی مثال پی آئی اے، اسٹیل مل اور دیگر اداروں کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی سی ایل اور ریلوے میں ان سورس کے ذریعے مزدوروں کی تعداد کم کر کے بے روزگاری پیدا کی جا رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ مہنگائی، پٹرول اور بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافے نے مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں اور مزدور خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ نظام کو بدلنا ہوگا اور دیانت دار قیادت کو آگے لانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساڑھے چار کروڑ مزدور نظام کی تبدیلی کے لیے دیانت دار قیادت کا ساتھ دیں گے اور 7 اگست کو مزدور تنظیمیں حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ ہوں گی اور اس کرپٹ حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گی۔
شرکا نے عزم ظاہر کیا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان ایسی باصلاحیت اور باکردار مزدور قیادت تیار کرے گی جو ملک میں انصاف، خوشحالی، قانون کی بالادستی اور عوام دوست نظام کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ تربیتی نشست میں خیبر پختونخوا، شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ پروگرام کی دوسری نشست سکھر میں منعقد ہوگی، جس میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی تنظیمی قیادت شریک ہوگی۔
